Hamari Mushtarka Sharmindagi
مشہور صحافی، دانشور اور مفکر رئوف کلاسرا صاحب نے اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھا: "جب اپنا بچہ تکلیف میں ہو تو جانور بھی کانپ اٹھتے ہیں اور اس کے لیے جو بن پڑے وہ کرتے ہیں۔ اصل انسانیت تو یہی ہے کہ آپ دوسرے کے بچوں کے لیے بھی اتنا ہی درد اور خیال رکھیں جتنا اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں"۔
یہ چند سطریں پڑھ کر میرے اندر جیسے کوئی زخم تڑپ اٹھا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے محسوس ہوا کہ یہ الفاظ کسی کالم میں نہیں لکھے گئے بلکہ میرے ضمیر کی دیوار پر کندہ ہو گئے ہیں۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا میں اک لمحہ کیلیئے بھی اپنے کو ایک اچھا انسان سمجھنے کا حقدار ہوں؟ کیا میں نے اپنے حصے کی انسانیت ادا کی ہے؟ کیا میں نے کبھی دوسروں کے بچوں کے لیے وہی محبت، وہی اضطراب محسوس کیا جو اپنے بچوں کے لیے محسوس کرتا ہوں؟
ان سوالوں کا جواب آسان نہیں ہے اور شاید اسی لیے تکلیف دہ بھی۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں بچوں کے بارے میں خوبصورت باتیں بہت کی جاتی ہیں۔ انہیں قوم کا مستقبل کہا جاتا ہے، ملک کا سرمایہ قرار دیا جاتا ہے اور آنے والے کل کی امید بتایا جاتا ہے۔ لیکن جب میں اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے مستقبل کے یہ دعوے حال کی تلخ حقیقتوں میں گم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں ایک بچہ بھوک سے لڑ رہا ہے، کہیں غربت سے، کہیں جنگ سے، کہیں بے حسی سے اور کہیں ان خوابوں کے ٹوٹنے سے جو اس نے ابھی دیکھنے شروع بھی نہیں کیے تھے۔
میں سوچتا ہوں کہ آخر ایک بچے کی محرومی ہمیں اتنا بے چین کیوں نہیں کرتی جتنا اپنے ذاتی نقصان کا خیال؟........
