1971 Ka Muqadma: Sirf Yahya Khan Kyun?
1971ء کا مقدمہ: صرف یحییٰ خان کیوں؟
یحییٰ خان کے بارے میں پاکستان میں ایک فیصلہ بہت پہلے ہو چکا ہے۔ شاید اتنا پہلے کہ اب اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت بھی کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔
ملک ٹوٹا تھا۔ یحییٰ خان اس وقت صدر تھے۔ چنانچہ مجرم بھی وہی ٹھہرے۔
بات بظاہر بالکل سیدھی ہے۔
اور یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ یحییٰ خان کی ذمہ داری سب سے بڑی تھی۔ آخر اختیار انہی کے ہاتھ میں تھا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ ان کا تھا۔ مارچ 1971ء کے مذاکرات کے دوران بھی وہی ریاست کے سربراہ تھے اور پھر وہ فوجی کارروائی بھی انہی کے عہد میں ہوئی جس کے بعد مشرقی پاکستان میں معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔
اس لیے اگر کوئی یہ توقع رکھتا ہے کہ میں یہاں یحییٰ خان کو بے قصور ثابت کرنے بیٹھا ہوں تو اسے ابھی مایوس ہو جانا چاہیے۔
میں ایسا نہیں کر رہا۔
میرا سوال کچھ اور ہے۔ اگر یحییٰ خان ہی اس پوری کہانی کے واحد ذمہ دار تھے تو پھر باقی لوگ کیا کر رہے تھے؟
ذوالفقار علی بھٹو کہاں تھے؟
شیخ مجیب الرحمن کا اس ساری کشمکش میں اپنا سیاسی کردار کیا تھا؟
اور وہ فوجی جرنیل، سول افسر اور مشیر جو یحییٰ خان کے گرد موجود تھے، کیا وہ سب محض دیواروں پر لگی تصویریں تھے؟
یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ رہا ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ ہماری تاریخ نے 1971ء کے بارے میں ایک نہایت آرام دہ سا حل تلاش کر لیا تھا۔ یحییٰ خان کو ذمہ دار ٹھہرا دیجیے، اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں مشہور قصے دہرائیے، اس پر شراب اور عورتوں کے حوالے سے چند جملے کہیے اور پھر آگے بڑھ جائیے۔
مگر اس سے ایک مشکل دور ہو جاتی ہے: باقی سب کا حساب لینے کی مشکل۔
اور شاید یہی کام ہمیں اب کرنا چاہیے۔
یحییٰ خان سے شروع کرتے ہیں، کیونکہ ان سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے انتخابات کرائے۔ یہ ان کے دور کا ایک اہم واقعہ تھا۔ لیکن انتخابات کرانا آدھی منزل تھی۔ اصل امتحان یہ تھا کہ نتیجہ جو بھی آئے، اسے مانا جائے۔
نتیجہ آیا تو عوامی لیگ قومی اسمبلی میں واضح اکثریت لے چکی تھی۔
یہاں سے یحییٰ خان کے لیے معاملہ مشکل ہوگیا۔ ایک طرف شیخ مجیب تھے، جن کے پاس عددی اکثریت تھی اور جو اقتدار کی منتقلی کو اپنا جمہوری حق سمجھتے تھے۔ دوسری طرف بھٹو تھے، جو مغربی پاکستان میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے تھے اور جنہیں نہ چھ نکات قبول تھے اور نہ ایسا بندوبست جس میں وہ سیاسی طور پر حاشیے پر چلے جائیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں مجھے بھٹو صاحب کے کردار پر کچھ دیر رکنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
کیونکہ ہماری تاریخ میں یحییٰ خان کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا، مگر بھٹو کے بارے میں ایک سوال اکثر احتیاط سے ٹال دیا جاتا ہے: کیا وہ واقعی اس وقت اقتدار کی کشمکش سے الگ کھڑے تھے؟
اور یہ کہنا بھٹو کو 25 مارچ کا ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہے۔ فوجی کارروائی کا فیصلہ ان کا نہیں تھا۔ اس کا حکم انہوں نے نہیں دیا تھا۔
لیکن سیاست میں آدمی صرف اپنے احکامات کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ اس فضا کا بھی حصہ ہوتا ہے جس میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔
بھٹو کی سیاست نے اس بحران کو آسان نہیں کیا۔ یہ بات ماننے میں کیا حرج ہے؟ کہ وہ قومی اسمبلی میں جاتے، اپنے موقف کے لیے لڑتے، مجیب کے چھ نکات پر بحث کرتے، ترمیم پیش کرتے، ووٹ مانگتے، اتحاد بناتے۔ آخر سیاست اسی کا نام ہے۔
مگر معاملہ اسمبلی تک پہنچنے ہی نہ دیا گیا۔
یہاں یحییٰ خان کا فیصلہ اپنی جگہ ہے۔ اختیار انہی کے پاس تھا اور اجلاس ملتوی کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ بھٹو کا اس فیصلے سے پہلے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، میرے نزدیک تاریخ کو ضرورت سے زیادہ صاف ستھرا بنا دینا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بھٹو صاحب کیا چاہتے تھے؟
وہ شاید یہ سمجھتے تھے کہ چھ نکات کی بنیاد پر بننے والا آئینی بندوبست پاکستان کو عملاً دو حصوں میں بانٹ دے گا۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف تھا اور اسے محض اقتدار کی ہوس کہہ کر رد کر دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی ہے۔
کیا وہ اس صورتِ حال کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے جس میں شیخ مجیب الرحمن پاکستان کے وزیراعظم ہوں اور ذوالفقار علی بھٹو قائدِ حزبِ اختلاف؟
مجھے اس کا جواب ہاں میں دینا مشکل لگتا ہے۔
یہاں بھٹو صاحب کی اصل سیاسی مشکل........
