Sitam Ki Aandhiyan Jinhe Bujha Nahi Sakti
ستم کی آندھیاں جنہیں بجھا نہیں سکتیں
تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر، کردار سازی اور تہذیبی ترقی کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کی مہذب اقوام نے صرف کتابی علم نہیں بلکہ اخلاق، برداشت، دیانت اور انسان دوستی کو بھی تعلیم کا حصہ بنایا، اسی لیے ان کے معاشرے ترقی یافتہ اور منظم نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، ادارے بڑھ رہے ہیں، نصاب وسیع ہو رہا ہے، لیکن رویّوں میں بہتری کم دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری تعلیم ہمارے رویے کیوں نہیں سنوار رہی؟ اس کی پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری تعلیم صرف امتحان پاس کرنے اور نوکری حاصل کرنے تک محدود ہو چکی ہے۔
طلبہ کو نمبر لینے کی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں کامیابی کا معیار کردار نہیں بلکہ مارکس بن گئے۔ جب تعلیم کا مقصد صرف ملازمت ہو تو اخلاقیات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ دوسری اہم وجہ نصاب میں اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔ ہمارے نصاب میں سائنسی، فنی اور نظری مضامین تو موجود ہیں، مگر برداشت، دیانت، سچائی، صفائی، وقت کی پابندی، اختلافِ رائے کا احترام اور معاشرتی ذمہ داری جیسے موضوعات کو عملی انداز میں شامل نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم پڑھا لکھا تو ہو جاتا ہے مگر باشعور شہری نہیں بنتا۔
تیسری وجہ گھریلو تربیت کا کمزور ہونا ہے۔ تعلیم صرف اسکول یا کالج کی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر پہلی درسگاہ ہے۔ اگر گھر میں جھوٹ، بدتمیزی، عدم برداشت اور دوسروں کی حق تلفی عام ہو تو ادارے اکیلے رویّے نہیں........
