Khogar e Hamd Ka Gila, Sher Rabbani Ka Sila Aur Muslah e Ummat
خوگر حمد کا گلہ، شیر ربانی کا صلہ اور مصلح امت
زمانہ تابعین کے معروف بزرگ بشر الحافی کا قول کہ "ایک گروہ ہے وصال شدہ لوگوں کا، جن کے ذکر سے قلب زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ زندہ لوگوں کا جن کی دید سے دل مردہ ہو جاتے ہیں"۔ شیر ربانی، حکیم الامت اور مصلح امت سید حسین الدین انہی خاصان حق میں شامل کہ بقول امام یوسف ہمدانی جن کے تذکرے پڑھ لینے سے غفلت و گمراہی دور اور ایمان و یقین کی دولت ہاتھ آتی ہے۔
غالباََ واقعہ 1912 کا کہ جب علامہ محمد اقبال وزیر اعظم سر شفیع کی معیت میں عشق کی آگ بجھانے اور دل کی بے کلی دور کرنے شیر ربانی کے آستانے پہنچے۔ معاملہ معروف نظم شکوہ کے بعد بگڑا۔ الزام! خوگر حمد کا اپنے مالک و مولا سے گلہ کا تھا۔ ظاہر بیں اسے بارگاہ ایزدی میں جسارت سمجھ رہے تھے تو اس پر شریعت کی گرفت لازم، غلط شاید وہ بھی نہ تھے کہ ظاہر فتوی کا ہی متقاضی تھا مگر انہیں کیا معلوم کہ یہ انداز دلربائی تھا جو عبد اپنے معبود سے بصورت شکوہ کر رہا تھا۔ ایک عاشق زار جو امت محمدی کی زبوں حالی پر دل گرفتہ اور اسی لے میں خدائے لم یزل کی بارگاہ میں وہ کچھ کہہ بیٹھا جس کا یارا بڑوں بڑوں کو نہ تھا۔
نظم میں قوت بازوئے مسلم کا ذکر تو کہیں مسلمانوں کی معرکہ آرائیوں کا تذکرہ۔ غزوات اور فتوحات خیبر کا حوالہ تو کئی ہزار سال سے گرم آتش کدہ ایران کو ٹھنڈا کرنے والے مجاہدین کی بےجگری کا تذکرہ، شکوہ........
