ہمارے یوٹیوبر، مکھیوں کے تاجر
مارے ڈر کے میں صبح واٹس ایپ ذرا دیر سے دیکھتا ہوں۔ اور جو دیکھتا ہوں تو دل ڈوب جاتا ہے۔ کیا کوئی ایسے ماں باپ ہیں جن کے بیٹے کو معالج نے لاعلاج کہہ کر چند دنوں کا مہمان کہا ہو اور وہ کھلے عام کہتے ہوں کہ ہمارا بیٹا بس مرنے کو ہے۔ یہ کہنا تو رہا ایک طرف ہر ماں ایسا کہنے والے کا منہ نوچ لیتی ہے۔ کیا کسی ایسی اولاد کا آپ کو پتا ہے جو لاعلاج ماں باپ کے لیے کہے کہ یہ تو اب دو گھڑی کے مہمان ہیں۔ تمام طریق علاج آزما کر بھی یہ رشتے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ تعویز دھاگے سے کام لیتے ہیں، جادو ٹونے کی طرف چلے جائیں گے، لیکن اپنے پیاروں کے لیے کبھی کلمہ بد منہ سے نہیں نکالیں گے۔ بیٹا نشئی، اچکا، لٹیرا اور عیبوں بھرا ہو تو ماں جانتے ہوئے بھی خاموش رہتی ہے۔ ماں آوارہ ہو، باپ لفنگا ہو تب بھی بیٹا خاموش رہتا ہے۔ صاحب، ہماری زندگی میں ملک کا مقام بھی یہی ہوتا ہے۔ وطن کو کبھی ہم ماں کہتے ہیں تو کبھی چھت کہہ کر اسے باپ سے مماثل قرار دیتے ہیں۔میں واٹس ایپ کھولتا ہوں تو پیغامات کی کثرت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ لوگ مادر وطن، اپنے باپ، اپنی چھت اور اپنے پاکستان پر معلوم نہیں کیوں برس رہے ہوتے ہیں، مثلا "جاپان میں 50 سال میں کبھی قتل نہیں ہوا جبکہ پاکستان میں ہر روز قتل ہوتے ہیں۔ یہ ملک رہنے کے لائق نہیں ". یا یہ کہ: "لوگ پاکستان سے اتنے مایوس ہیں کہ اس سال اتنے لاکھ لوگ ملک چھوڑ گئے ہیں ". یہ نمونے کے دو پیغام ہیں۔ اپنی ماں، اپنی چھت یعنی اپنے........
