menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قصہ ایک سڑک کا

19 0
previous day

واہ جی واہ، عجوبے صرف پاکستان میں رونما ہوتے ہیں اور تازہ عجوبہ حیدرآباد سندھ میں رونما ہوا ہے۔ ایک سڑک کی کہانی تو آپ جان ہی چکے ہوں گے جو حیدرآباد میں بنی اور اس میں بیسیوں کھمبوں کی موجودگی میں سڑک کو بنا کے کھول دیا گیا۔ میڈیا پر اس عجوبہء روزگار سڑک کی خبریں آئیں، بلکہ بیرونی ممالک کے میڈیا نے بھی اس کا ذکر کیا تو سندھ حکومت کی آنکھ کھلی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اسمبلی میں اس پر اپنا موقف دینے پر مجبور ہو گئے۔  جب آپ اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو مضحکہ میز ہوتی ہیں۔ مراد علی شاہ نے فرمایا ہم نے  بڑی مشکل سے یہ  زمین لے کر بنائی، کیونکہ اس میں کنٹونمنٹ بورڈ  کا علاقہ بھی شامل تھا۔ یہاں پہلے گرڈ سٹیشن ہوتے تھے، انہیں ہٹانے کے لئے حسکو کو لکھا گیا، مگر انہوں نے بات نہ سنی، اس لئے ہم نے ایک حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا کہ کھمبے ہٹوائے بغیر سڑک بنا دی جائے، سڑک بن جائے گی تو حسکو پر دباؤ پڑے گا اور وہ کھمبے ہٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اب یہ کوئی وزیراعلیٰ کا بیان سمجھ سکتا ہے؟ اتنا بے بس وزیراعلیٰ ہے اور اتنی طاقتور حسکو کی انتظامیہ ہے۔ چلیں جی مان لیتے ہیں سڑک بنا دی اور ایک حکمت عملی کے تحت بنائی مگر اسے ٹریفک کے لئے کیوں کھولا گیا۔ رات کے وقت جہاں سٹریٹ لائٹس بھی نہیں، درمیان میں کھمبے کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں، کسی نے یہ بھی نہیں........

© Daily Pakistan (Urdu)