خواتین کی خودمختاری کا سفر: دو پہیوں پر بدلتی زندگی
کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید گاڑیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہاں خواتین کو کتنی آزادی، سہولت اور تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان میں موٹر سائیکل اور الیکٹرک اسکوٹی چلاتی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک ایسی سماجی تبدیلی کی علامت ہے جو خاموشی سے ہمارے معاشرتی تصورات کو بدل رہی ہے۔ یہ محض سواری کے انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ خودانحصاری، معاشی خودمختاری اور زندگی کے فیصلے خود کرنے کے حق کا اظہار ہے۔ تاہم اس تبدیلی کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو سڑکوں پر آزادی کے ساتھ تحفظ اور عزت بھی میسر ہو۔مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر اہم معاشی مسئلہ بنا دیا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست سفری اخراجات اور گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں الیکٹرک اسکوٹی نسبتاً کم خرچ ذریعہ آمدورفت کے طور پر اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ بالخصوص طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کے لیے یہ سہولت محض اخراجات میں کمی نہیں بلکہ وقت کی بچت، خوداعتمادی اور دوسروں پر انحصار سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں خواتین تعلیمی اداروں، دفاتر اور بازاروں تک پہنچنے کے لیے الیکٹرک اسکوٹیز استعمال کر رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظار، غیر یقینی سفری اوقات اور مہنگی آن لائن ٹیکسی سروسز سے نجات ان........
