نئے شعبے اور جرائم نظر انداز کیوں؟
جانیئے اب تو انتظامیہ پر ترس آنے لگا ہے کہ ملک میں جرائم اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ جب تک سمجھ آئے تب تک پانی سر سے اونچا ہو چکا ہوتا ہے لیکن ٹھہریئے کیا واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے یا پھر انتظامیہ کی ترجیحات اور کام کے انداز پر بات کرنا چاہیے یہ اس لئے کہ اگر انتظامیہ الرٹ ہو تو کسی بھی نوعیت کے جرم سے قبل یا اس کی اطلاع ہوتے ہی سدباب بھی کرلینا چاہیے لیکن یہاں وہ کہاوت یاد آتی ہے (معلوم نہیں حقیقت کیا ہے) کہتے تھے کہ انگریزسوسال پہلے سوچتا اور عمل کرتا ہے جبکہ بنیاء پچاس سال قبل ایسا کرتا ہے، ہم مسلمان اس وقت غور کرتے ہیں جب سر پر آن پڑتی ہے دور جدید تیز رفتار ترقی کا ہے اس میں اب مصنوعی ذہانت کا سلسلہ بھی چل نکلا ہے دوسرے معنوں میں اس شعبہ میں انقلاب آ گیا اور اس کے ساتھ ہی مجرمانہ ذہن کے حامل حضرات بھی سرگرم عمل ہو گئے اور حکومت کو سائبر کرائمز کا باقاعدہ شعبہ بنانا پڑا، اب ہر روز کسی نہ کسی سکینڈل کی خبر ملتی رہتی ہے اور اس شعبہ (مصنوعی) کے ماہرین اپنی مہارت کے مثبت استعمال کی بجائے مجرمانہ استعمال شروع کر دیتے ہیں اس حوالے........
