روزنامہ پاکستان کا مشکل اور اچھا دور!
ملک کے بدلتے ہوئے معروضی حالات اخبارات کی اشاعت و فروخت کے حق میں نہیں رہے اس لئے اخباری صنعت میں مایوسی اور محرومی کی جو فضا پائی جاتی ہے وہ فطری ہے۔اخبارات کو ملنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اشتہارات سکڑ سمٹ کر برائے نام رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے اخباری مالکان کیلئے جملہ اخراجات سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود جو مالکان اپنے اخبارات کی اشاعت کو برقرار اور اپنے ملازمین کو ایک نوزائیدہ بچے کی طرح اپنی گود میں لئے بیٹھے ہیں اور ان کی فطری ضرورتوں کیلئے اپنا دامن التفات وا کئے ہوئے ہیں ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے اخبارات کے مالکان نے مختلف حکومتوں کی جس تلوار بے رحمت اور سفاکانہ سلوک کا سامنا کیا ہے وہ الگ داستان ہے لیکن اس سے قطع نظر ایک مالک اور ایڈیٹر کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو نبھانا، مختلف طبقوں کے حقوق کا خیال رکھنا اور سرکاری اداروں کے ساتھ معاملات نبھانا بھی کچھ کم مشکل نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیراعلیٰ الطاف حسن قریشی کے انتقال پر روزنامہ پاکستان میں ان کی رحلت کی خبر شائع کرتے ہوئے اپنی شہ سرخی میں لکھا پاکستانی صحافت اپنے فیلڈ مارشل سے محروم ہو گئی۔ ایسا خراج تحسین کسی عام صحافی کے بس کی بات نہیں بلاشبہ یہ الفاظ جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کے ہو سکتے ہیں جو ان کے پرانے ساتھی ہونے کا........
