آئیڈیلزم کا بُت ٹوٹ رہا ہے
اس خبر کا بڑا چرچا ہے کہ نوجوانوں کی سی ایس ایس کے امتحان میں دلچسپی کم ہو گئی ہے، اب اگر کوئی اس کا یہ مطلب نکالتا ہے کہ ملک میں سی ایس پی افسروں کی ناکامی اور معاشرے میں پائے جانے والے ان کے بارے میں منفی تاثر کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، تو اسے اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی کہا جا سکتا ہے۔جہاں چھوٹی چھوٹی سرکاری نوکریوں کیلئے ایک پوسٹ پر ہزاروں امیدوار درخواستیں دیتے ہوں وہاں سی ایس ایس کے بعد ملنے والے شاہانہ بلکہ شاہانہ سے بھی آگے کی نوکری میں نوجوان دلچسپی چھوڑ دیں گے، صرف اسلئے کہ لوگ اب ان افسروں کو اچھا نہیں سمجھتے بہت بڑا تجاہل عارفانہ ہے۔ میں نے اس موضوع پر بعض تجزیہ کاروں کی گفتگو سنی ہے۔ وہ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں، اس ملک میں یکدم تو ایسی کایا کلپ نہیں ہو سکتی کہ جو پرکشش ہے وہ بے کشش ہو جائے۔ بات کچھ اور ہے اور اس کا تعلق سی ایس ایس کے امتحان کی پیچیدگیوں، اس کے نصاب کی لایعنیت اور پھر انٹرویو میں غیر شفافیت سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے سی ایس ایس کی تیاری بھی انٹری ٹیسٹ اور ایم ڈی ٹیسٹ کی طرح ہوتی ہے۔ گھر بیٹھ کے کم ہی ہو سکتی ہے اور جو سی ایس ایس کی تیاری کرانے والی اکیڈیمیاں ہیں ان میں کوئی غریب اور ذہین بچہ جا ہی نہیں سکتا کیونکہ فیس لاکھوں میں لی جاتی ہے۔ بمشکل ہر سال سو سوا سو آسامیاں آتی ہیں اور درخواستیں ہزاروں آ جاتی ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں تحریری امتحانات ہوتے ہیں لیکن دوردراز کے طالب علم ان بڑے شہروں میں جانے کے اخراجات........
