menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

عرفان اطہر قاضی

9 0
latest

دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے آتے بڑی خامشی سے ہیں مگر اپنے پیچھے ایک شور چھوڑ جاتے ہیں، ایسا شور جو طاقت کے ایوانوں، معیشت اور جنگ کے میدانوں تک گونجتا ہے۔ آج کا لمحہ بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے، جہاں بند کمروں میں ہونیوالی سرگوشیاں شاید آنیوالے کل کی تاریخ لکھ رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جل رہا ہے، مگر اس بار آگ صرف بارود کی نہیں بلکہ انا، مفادات اور خوف کی بھی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل آبنائے ہرمز میں ایک ایسی تکون میں پھنس چکے ہیں جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے تو بھی خطرہ کم نہیں ہوتا اور اس خطرناک کھیل میں ایک غیر متوقع کھلاڑی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان، یہ وہی پاکستان ہے جسے کبھی عالمی سیاست میں ”فرنٹ لائن اسٹیٹ“ کہا گیا، کبھی ”مسئلہ“ سمجھا گیا اور کبھی نظرانداز کر دیا گیا مگر آج یہی پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے یا کم از کم اسکی رفتار کو سست کرنے کی۔ مگر اس کہانی کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے ہمیں واشنگٹن کی طرف دیکھنا ہوگا، جہاں ٹرمپ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ٹرمپ کیلئے ایران کیساتھ کشیدگی محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک بڑی جنگ انہیں وقتی طور پر ”مضبوط لیڈر“ بنا سکتی ہے، مگر ایک طویل جنگ انکی سیاست کو دفن بھی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ اور امن کے درمیان ایک خطرناک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک طرف دھمکیاں، دوسری طرف مذاکرات،یہی ٹرمپ کی حکمت عملی ہے۔ مسئلہ مگریہ ہے کہ یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ دوسری جانب ایران ہے۔ ایک ایسا ملک جو بظاہر سخت مو قف رکھتا ہے مگر اندر سے شدید دبائو کا شکار ہے۔ ایران جانتا ہے کہ ایک مکمل جنگ اس کیلئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ”مجبوری“ سیاست پر غالب آ جاتی ہے اور اسی مجبوری کے بیچ پاکستان نے اپنی تاریخی سفارت کاری کے جوہر دکھائے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا حالیہ دورہ ایران محض ایک سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایک خاموش مشن ہے۔ایسا مشن جسکا مقصد صرف پیغام پہنچانا نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنا ہے۔ تین دن فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں موجود رہے یہ کوئی معمولی بات نہیں۔جو اطلاعات آ رہی ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔ سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت کو امریکہ کیساتھ ممکنہ معاہدے پر قائل کیا جا رہا ہے۔ انہیں یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ ”ہار“ نہیں بلکہ ایک ”حکمت عملی“ ہو سکتا ہے۔یہ آسان کام نہیں۔ ایران کیلئے امریکہ پر اعتماد کرنا ایسا ہی ہے جیسے ماضی کے زخموں کو بھلا دینا اور یہ کام نہ تو ایک ملاقات میںممکن ہے اور نہ ہی ایک وعدے سے۔ اسی لئے فیلڈ مارشل کا یہ دورہ طویل تھا۔یہ محض سفارت کاری نہیں،یہ نفسیاتی جنگ بھی ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں خاموشی ہے، اطلاعات ہیں کہ اگلے چند دنوں میں ایک ”تاریخی معاہدہ“ ممکن ہے۔

اگر یہ اسلام آباد میں طے پا جاتا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی عالمی حیثیت میں ایک بڑی تبدیلی بھی ہوگی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے، کیا واقعی سب کچھ اتنا آسان ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ اس کھیل میں ایک اور کھلاڑی بھی موجود ہے، اسرائیل۔ اسرائیل اس پورے عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ اس کیلئے ایران کے ساتھ کوئی بھی نرمی ایک خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو اس پورے عمل کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔ پھر آتے ہیں خلیجی ممالک، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں دورے کئے۔ یہ دورے محض رسمی نہیں تھے بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ان ممالک کو ساتھ ملانا ضروری تھا، کیونکہ انکے بغیر کوئی بھی معاہدہ ادھورا رہتااور اب بظاہر ایک خاموش اتفاق رائے بنتا نظر آ رہا ہے،جنگ سب کیلئے نقصان دہ ہے، امن سب کیلئے فائدہ مند۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کا راستہ ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ یہاں دھوکہ بھی ہوتا ہے، دبائو بھی، اور آخری لمحے کی سیاست بھی۔ اگرچہ امکانات روشن مگر خطرات بھی اتنے ہی بڑے ہیں۔اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو اسکے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں، عالمی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے، خطے میں ایک نیا توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ ناکام ہو گیا؟تو پھر وہی ہوگا جو تاریخ بار بار دکھاتی آئی ہے، جنگ۔ اور یہ کوئی عام جنگ نہیں ہوگی ایک ایسی جنگ ہوگی جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہوگا یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار اپنی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھ پائیگی؟ کیا ٹرمپ اپنی سیاست سے اوپر اٹھ کر فیصلہ کریں گے؟کیا ایران اپنی مزاحمت کو حکمت عملی میں بدل سکے گا؟اور سب سے بڑھ کرکیا پاکستان واقعی اس کردار کو ضامن کے طور پر نبھا پائیگاجسکی اس سے توقع کی جا رہی ہے؟ جواب ابھی دھندلاہے۔ مگر ایک بات واضح ہے، اس بار کھیل بڑا ہے، دائو بڑا ہے، اور اگر اسلام آباد میں واقعی معاہدہ طے پا گیا تویہ تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہوگا۔

یہ پاکستان کی ایک بڑی تاریخی، سفارتی کامیابی ہوگی، یقیناً پاکستان کئی دہائیوں میں پہلی بار عالمی سیاست میں ایک مثبت اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا نظر آئیگا۔ دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں، کیا واقعی چند دنوں میں تاریخ رقم ہونیوالی ہے؟ یا یہ بھی ایک ادھورا خواب ثابت ہوگا؟ فیصلہ آنے والا وقت کریگا مگر یہ طے ہے کہ اس بار کھیل بڑا ہے، کھلاڑی سنجیدہ ہیں اور داؤ پر خطہ نہیں پوری دنیا کا مستقبل لگا ہوا ہے۔

600 سے زائد غیرقانونی پناہ گزینوں نے انگلش چینل عبور کرلیا

600 سے زائد غیرقانونی پناہ گزینوں نے انگلش چینل عبور کرلیا

ہزمز کو پہلے والی صورتحال میں بحال کیا جائے، اماراتی وزیر برائے پیٹرولیم ڈاکٹر سلطان الجابر کا کہنا تھا کہ عالمی گزرگاہ پر ادائیگیاں بھتہ خوری کے مترادف ہیں۔

ہزمز کو پہلے والی صورتحال میں بحال کیا جائے، اماراتی وزیر برائے پیٹرولیم

ڈاکٹر سلطان الجابر کا کہنا تھا کہ عالمی گزرگاہ پر ادائیگیاں بھتہ خوری کے مترادف ہیں۔

شہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، ایرانی صدر انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے عزیزوں، خصوصاً میناب اسکول کی معصوم بیٹیوں کی شہادت پر غمزدہ ہیں۔

شہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، ایرانی صدر

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے عزیزوں، خصوصاً میناب اسکول کی معصوم بیٹیوں کی شہادت پر غمزدہ ہیں۔

اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال دونوں رہنماؤں نے ایران امریکا مذاکراتی دور کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں نے ایران امریکا مذاکراتی دور کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، ایرانی سفیر

غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، ایرانی سفیر

پوپ لیو کی ایران پر حملوں کی پھر مخالفت کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے ایک بار پھر ایران پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے مسئلے کا پُرامن حل نکالنے پر زور دیا ہے۔

پوپ لیو کی ایران پر حملوں کی پھر مخالفت

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے ایک بار پھر ایران پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے مسئلے کا پُرامن حل نکالنے پر زور دیا ہے۔

امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی جہاز قبضے میں لیا ہے، ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔

امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی جہاز قبضے میں لیا ہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔

کوئٹہ اچھا کھیل کر پلے آف میں جگہ پکی کریگی، کوچ سہیل تنویر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بولنگ کوچ سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ہماری کارکردگی میں تسلسل کی کمی رہی، چوتھی ٹیم کیلئے اب بھی مقابلہ چل رہا ہے۔

کوئٹہ اچھا کھیل کر پلے آف میں جگہ پکی کریگی، کوچ سہیل تنویر

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بولنگ کوچ سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ہماری کارکردگی میں تسلسل کی کمی رہی، چوتھی ٹیم کیلئے اب بھی مقابلہ چل رہا ہے۔

googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1526305243924-0'); });

ورجینیا: امریکی پرچم لہراتے ہوئے پیرا شوٹر حادثے کا شکار امریکی ریاست ورجینیا میں امریکی پرچم لہراتے ہوئے پیرا شوٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔

ورجینیا: امریکی پرچم لہراتے ہوئے پیرا شوٹر حادثے کا شکار

امریکی ریاست ورجینیا میں امریکی پرچم لہراتے ہوئے پیرا شوٹر حادثے کا شکار ہوگیا۔

امن کیلئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، آئی اے پی جے دنیا کے امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ اور کامیاب سفارتکاری پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

امن کیلئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، آئی اے پی جے

دنیا کے امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ اور کامیاب سفارتکاری پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

بابر اعظم ہمیشہ ہی ورلڈ کلاس تھا: اظہر محمود پشاور زلمی کے اسسٹنٹ اور بولنگ کوچ اظہر محمود نے کہا کہ بابر اعظم ہمیشہ ہی ورلڈ کلاس تھا، پاکستان میں 180 یا 190 اسٹرائیک ریٹ والا کوئی نہیں۔

بابر اعظم ہمیشہ ہی ورلڈ کلاس تھا: اظہر محمود

پشاور زلمی کے اسسٹنٹ اور بولنگ کوچ اظہر محمود نے کہا کہ بابر اعظم ہمیشہ ہی ورلڈ کلاس تھا، پاکستان میں 180 یا 190 اسٹرائیک ریٹ والا کوئی نہیں۔

دوسرا دور، ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار ایران نے امریکا سے دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

دوسرا دور، ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار

ایران نے امریکا سے دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

دل ٹوٹنے کے باعث کئی ماہ تک بےخوابی کی بیماری میں مبتلا رہی: بھارتی اداکارہ بالی ووڈ اداکارہ کالکلی کوئچلین نے دل ٹوٹنے کے بعد بے خوابی کی بیماری سے جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا میں بالکل سو ہی نہیں پاتی تھی۔ اگرچہ 42 سالہ کالکی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس رشتے کے بارے میں بات کر رہی تھیں، لیکن ان کا سب سے مشہور ماضی کا تعلق اداکار و ہدایت کار انوراگ کشیپ کے ساتھ رہا ہے۔

دل ٹوٹنے کے باعث کئی ماہ تک بےخوابی کی بیماری میں مبتلا رہی: بھارتی اداکارہ

بالی ووڈ اداکارہ کالکلی کوئچلین نے دل ٹوٹنے کے بعد بے خوابی کی بیماری سے جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا میں بالکل سو ہی نہیں پاتی تھی۔ اگرچہ 42 سالہ کالکی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس رشتے کے بارے میں بات کر رہی تھیں، لیکن ان کا سب سے مشہور ماضی کا تعلق اداکار و ہدایت کار انوراگ کشیپ کے ساتھ رہا ہے۔

سماعت منسوخ نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو اپنا شیڈول ایڈجسٹ کریں، عدالت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مجرمانہ مقدمے کی سماعت منسوخی کی درخواست مسترد کردی گئی۔

سماعت منسوخ نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو اپنا شیڈول ایڈجسٹ کریں، عدالت

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مجرمانہ مقدمے کی سماعت منسوخی کی درخواست مسترد کردی گئی۔

100 کروڑ کے اثاثوں کا مالک رکشے پر سفر کیوں کرتا ہے؟ ونود چندھل نامی بھارتی بزنس مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں ایک قریبی دوست کی عادات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بڑی مالی کامیابی کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی میں نمود و نمائش کو جگہ نہیں دی۔

100 کروڑ کے اثاثوں کا مالک رکشے پر سفر کیوں کرتا ہے؟

ونود چندھل نامی بھارتی بزنس مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں ایک قریبی دوست کی عادات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بڑی مالی کامیابی کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی میں نمود و نمائش کو جگہ نہیں دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ ایران مسعود پزشکیان سے خود ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو

وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ ایران مسعود پزشکیان سے خود ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔


© Daily Jang