menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امید اور توقع

13 0
yesterday

امید کچھ اچھا ہونے کی خواہش کو کہتے ہیں۔ اس دبے ہوئے احساس کے ساتھ کہ ضرور ی نہیں وہ خواہش پوری بھی ہو۔ توقع میں خواہش کے ساتھ ساتھ کسی حد تک یہ اعتماد بھی ہوتاہے کہ ایسا ہوجائے گا کیونکہ اس میں آدمی کا استحقاق بھی شامل ہوجاتاہے۔مثال کے طور پر اگر کسی امتحانی پرچے میں آدمی نے جواب صحیح صحیح حل کئے ہوں تو یہ توقع حق بجانب ہوگی کہ وہ امتحان میںپاس ہوجائے گا۔ امید بظاہر کسی استحقاق کے بغیر آدمی دوسرے کے رحم وکرم پر کرتاہے۔ مستقبل کی ہر صورت آدمی کی امیدوں کے موافق یا برعکس ثابت ہوسکتی ہے۔ امیدوں کا تعلق ماضی اور حال سے نہیں ۔صرف مستقبل سے ہوتاہے۔ آدمی امیدوں کے سہارے ہی جیتاہے۔ آدمی امیدیں ہمیشہ تعلق والے لوگوں سے رکھتا ہے۔ظاہر ہے دشمنوں سے توکسی اچھائی کی امید نہیں رکھی جاسکتی ۔اُولاد والدین سے اور والدین اولاد سے ، بھائی بہن اور عزیز واقارب ایک دوسرے سے امیدیں رکھتے ہیں۔ دوست دوست سے،استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد سے، ڈاکڑ مریض سے اور مریض ڈاکٹر سے ،افسر ماتحت سے اور ماتحت افسر سے یعنی ہر تعلق والا متعلق سے امید رکھتا ہے۔ اسی طرح عوام حکومت سے اور حکومت عوام سے ،ملک اور قومیں اپنے اپنے مفادات کے تحت بین الاقوامی برادری میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھتے ہیں۔ اسی طرح مذہب ونظریات کی مضبوطی اور افادیت کی بنیاد پر لوگ طرح طرح کی امیدیں رکھتے ہیں۔ آدمی گھر سے نکلتا ہے تو کسی امید پر اور واپس جاتاہے تو کسی امید پر جاتاہے۔ اسی بنا پر چوتھے خلیفہ فرماتے ہیں ’’تین رشتے........

© Daily 92 Roznama