menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پاک ایران تجارتی امکانات کو حقیقت بنانے کا وقت

26 0
23.07.2026

پاک ایران تجارتی امکانات کو حقیقت بنانے کا وقت

ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو آئندہ تین سے پانچ برسوں میں 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔دوسری طرف فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے بھی پیش کیا گیا ایسا ہدف محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل معاشی منصوبہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک سنجیدگی کے ساتھ ان عملی رکاوٹوں کو دور کریں جو کئی برسوں سے تجارت کی راہ میں حائل ہیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا، جس میں پاکستان کی برآمدات صرف 684 ملین ڈالر جبکہ ایران سے درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر تھیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کی معاشی استعداد کے مقابلے میں موجودہ تجارتی حجم انتہائی محدود ہے۔ حالیہ دنوںایران کے صوبہ اراک سے آنے والے تجارتی وفد نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کیا کہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ اراک بھاری مشینری، انجینئرنگ، آٹو پارٹس، زرعی ٹیکنالوجی، کان کنی اور صنعتی آلات کی تیاری میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کو اپنے صنعتی شعبے کی توسیع، زرعی پیداوار میں اضافے اور جدید مینوفیکچرنگ کے لیے انہی........

© Daily 92 Roznama