74 فیصد نئے قرضوں کا بوجھ ...
کسی بھی ریاست کی معیشت اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جب یہ ریڑھ کی ہڈی غیر ملکی قرضوں کی دیمک چاٹ لے تو قوم صرف مفلوج نہیں ہوتی، بلکہ نسلوں کے لیے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے۔ پاکستان آج اسی غلامی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار نے جو تصویر کھینچی ہے وہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ جون 2022 میں ملکی مجموعی قرضہ 47 ہزار 832 ارب روپے تھا، جو جون 2026 تک 83 ہزار 642 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ محض 74.86 فیصد کا اضافہ نہیں، یہ قوم کی آئندہ تین نسلوں کی محنت پر غیر ملکی قرض خواہوں کا باضابطہ قبضہ ہے۔ مقامی قرضہ بھی 59 ہزار 441 ارب روپے کی خطرناک سطح پر جا پہنچا ہے۔ان ہوشربا ہندسوں کو پڑھتے ہوئے ایک عام پاکستانی کا ذہن یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ جن لوگوں کی پالیسیوں نے ملک کو قرضوں کے اس بھنور میں دھکیلا، انہیں کیا سزا ملی؟ جواب ملتا ہے: سزا نہیں، سول اعزازات! یومِ آزادی 2026 کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جن وفاقی وزرا کے لیے نشانِ امتیاز کی نامزدگیاں منظور کی ہیں، ان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ........
