پاکستان 2025 : عالمی ...
اس قسط کا آغاز دراصل اس تسلسل کی علامت ہے جس میں پاکستان نے 2025 کے بعد اپنی سمت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید واضح اور قابلِ فہم بنایا۔ اب گفتگو کسی تعارف یا جواز کی محتاج نہیں رہی۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں کہاں کھڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس مقام کو کس طرح ادارہ جاتی طاقت، قومی ترقی اور پائیدار وقار میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ملٹری ڈپلومیسی محض ایک کامیاب حربہ نہیں رہتی بلکہ ریاستی ارتقا کا حصہ بن جاتی ہے۔
2025 کے بعد عالمی ماحول تیزی سے پیچیدہ ہوا۔ بڑی طاقتوں کے درمیان عدم اعتماد گہرا ہوا، علاقائی تنازعات نے نئے زاوئیے اختیار کیے اور عالمی معیشت دباؤ میں رہی۔ ایسے ماحول میں وہی ریاستیں نمایاں رہیں جو اپنی ترجیحات واضح رکھ سکیں اور دباؤ کے باوجود فیصلہ سازی میں توازن برقرار رکھیں۔ پاکستان نے اسی توازن کو اپنا مرکزی اصول بنایا۔ اس نے نہ تو خود کو کسی عالمی کشمکش کا اگلا محاذ بننے دیا اور نہ ہی فیصلہ سازی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ یہی درمیانی راستہ اس کی پہچان بنتا گیا۔
اس مرحلے پر ملٹری ڈپلومیسی کا کردار ایک نئی سطح پر داخل ہوا۔ اب مقصد محض رابطہ کاری یا اعتماد سازی نہیں رہا، بلکہ حاصل شدہ ساکھ کو مستقل ریاستی طاقت میں ڈھالنا بن گیا۔ عسکری قیادت ، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی نے یہ ممکن بنایا کہ پاکستان کا پیغام ہر سطح پر یکساں رہے۔ دنیا کے لیے یہ یکسانیت ایک اہم اشارہ تھی: پاکستان اب عارضی ردِعمل کی ریاست نہیں بلکہ پیش بندی اور........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Penny S. Tee
Gideon Levy
Waka Ikeda
Mark Travers Ph.d
Grant Arthur Gochin
Tarik Cyril Amar
Chester H. Sunde