پاکستان 2025: عالمی طاقتوں ...
2026 کی دہلیز پر کھڑی دنیا میں سب سے اہم سوال یہ نہیں رہا کہ کون سی ریاست کے پاس زیادہ وسائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون ان وسائل کو ادارہ جاتی تسلسل میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ میں بہت سی قومیں ایسے لمحات سے گزری ہیں جب عالمی توجہ اچانک ان کی طرف مبذول ہوئی، مگر وہ اس توجہ کو مستقل طاقت میں تبدیل نہ کر سکیں۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان اب یہی ہے کہ 2025 میں حاصل ہونے والی ساکھ، اعتماد اور اسٹریٹجک اہمیت کو کس حد تک پائیدار قومی ڈھانچے میں منتقل کیا جاتا ہے۔
ملٹری ڈپلومیسی کی کامیابی اس وقت مکمل سمجھی جاتی ہے جب وہ محض افراد یا واقعات سے نکل کر اداروں میں رچ بس جائے۔ 2025 کے بعد پاکستان میں یہی تبدیلی واضح طور پر دکھائی دینے لگی ۔ عسکری قیادت، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے بیانیے کے درمیان جو ہم آہنگی پیدا ہوئی ، اس نے ریاستی فیصلہ سازی کو ایک نئی سمت دی۔ اب پیغام وقتی نہیں بلکہ مسلسل تھا اور یہی تسلسل عالمی دارالحکومتوں میں سب سے زیادہ قابلِ قدر سمجھا جاتا ہے۔
یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو ایک نئے زاوئیے سے دیکھا جانے لگا۔ عالمی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ان کی اصل کامیابی کسی ایک عسکری اقدام میں نہیں بلکہ اس بات میں تھی کہ انہوں نے طاقت کو ادارہ جاتی نظم میں قید کر دیا۔ قیادت کا یہ انداز شخصیت پرستی کے........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Penny S. Tee
Gideon Levy
Waka Ikeda
Mark Travers Ph.d
Grant Arthur Gochin
Tarik Cyril Amar
Chester H. Sunde