menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

شہباز شریف کا"مارچ 1990" ہو ...

21 0
14.08.2026

دوسرے تک اپنے خیالات پہنچانے والے ذرائع ابلاغ اور ان کی حرکیات کا بغور مطالعہ کرنے والے سماجی علوم کے مختلف ماہرین کے ساتھ مل کر ان دنوں یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اب تک متعارف ہوئے پلیٹ فارموں کے نتیجے میں انسان معاشرتی زندگی کے سنگین مسائل پر سنجیدہ غوروفکر کے بالآخر قابل رہ پائے گا یا نہیں۔ مذکورہ سوال کا جواب ابھی تک حوصلہ شکن مل رہا ہے۔ مصنوعی یا صنعتی ذہانت کی دریافت بلکہ ذہنِ انسانی کے مزید ’’کاہل‘‘ ہوجانے کا خوف اجاگر کرنا شروع ہوگئی ہے۔فلسفے کا نصابی طالب علم رہا ہوں۔ اس مضمون کا مگر ڈگری لینے کے لئے ہی استعمال کیا تھا۔ تعلیم ’’مکمل‘‘ ہوتے ہی صحافت کل وقتی پیشے کے طورپر اپنالی۔ اس نے کئی دہائیوں تک ضرورت سے زیادہ عزت، تھوڑی شہرت اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والی آمدنی کے قابل بنادیا۔ زندگی ان تینوں کے ساتھ یوں ہی گزرہی جاتی مگر 2011ء سے ایک کرشمہ ساز شخصیت کی بنائی جماعت نے سوشل میڈیا پر کامل اجارہ قائم کرلیا۔ فیس بک اور ٹویٹر پاکستان کو غلامی اور تباہی کے گرداب میں دھکیلنے والے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ان کی بدولت مجھے علم ہوا کہ سکول سے کالج داخلے کے وقفے کے دوران ’’انقلابی‘‘ ہوا یہ خاکسار ’’لفافہ‘‘ ہے۔ حکمرانوں سے ’’ٹوکریاں‘‘ وصول کرنے کے علاوہ پراپرٹی کے دھندے سے مشہور ہوئے ایک سیٹھ سے قیمتی پلاٹ اور لاکھوں روپے بھی وصول کرچکا ہے۔ ’’کاش…‘‘ کی تمنا کے ساتھ دل ٹوٹ گیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے مگر جلد ہی خود کو سنبھال لیا۔آواز سگاں سے گھبرا کر گوشہ نشینی اختیار کرنا میرے بس میں نہیں۔ زندہ رہنے کے لئے صحافت کے سوا کسی اور ہنر سے آگاہ ہی نہیں۔ اس حوالے سے ’’چکی کی مشقت‘‘ جاری رکھنا ضروری ہے۔ میری ڈھٹائی سے اکتاکر سوشل میڈیا کے تلنگے بتدریج مجھے........

© Nawa-i-Waqt