شہباز شریف کا"مارچ 1990" ہو ...
دوسرے تک اپنے خیالات پہنچانے والے ذرائع ابلاغ اور ان کی حرکیات کا بغور مطالعہ کرنے والے سماجی علوم کے مختلف ماہرین کے ساتھ مل کر ان دنوں یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اب تک متعارف ہوئے پلیٹ فارموں کے نتیجے میں انسان معاشرتی زندگی کے سنگین مسائل پر سنجیدہ غوروفکر کے بالآخر قابل رہ پائے گا یا نہیں۔ مذکورہ سوال کا جواب ابھی تک حوصلہ شکن مل رہا ہے۔ مصنوعی یا صنعتی ذہانت کی دریافت بلکہ ذہنِ انسانی کے مزید ’’کاہل‘‘ ہوجانے کا خوف اجاگر کرنا شروع ہوگئی ہے۔فلسفے کا نصابی طالب علم رہا ہوں۔ اس مضمون کا مگر ڈگری لینے کے لئے ہی استعمال کیا تھا۔ تعلیم ’’مکمل‘‘ ہوتے ہی صحافت کل وقتی پیشے کے طورپر اپنالی۔ اس نے کئی دہائیوں تک ضرورت سے زیادہ عزت، تھوڑی شہرت اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والی آمدنی کے قابل بنادیا۔ زندگی ان تینوں کے ساتھ یوں ہی گزرہی جاتی مگر 2011ء سے ایک کرشمہ ساز شخصیت کی بنائی جماعت نے سوشل میڈیا پر کامل اجارہ قائم کرلیا۔ فیس بک اور ٹویٹر پاکستان کو غلامی اور تباہی کے گرداب میں دھکیلنے والے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ان کی بدولت مجھے علم ہوا کہ سکول سے کالج داخلے کے وقفے کے دوران ’’انقلابی‘‘ ہوا یہ خاکسار ’’لفافہ‘‘ ہے۔ حکمرانوں سے ’’ٹوکریاں‘‘ وصول کرنے کے علاوہ پراپرٹی کے دھندے سے مشہور ہوئے ایک سیٹھ سے قیمتی پلاٹ اور لاکھوں روپے بھی وصول کرچکا ہے۔ ’’کاش…‘‘ کی تمنا کے ساتھ دل ٹوٹ گیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے مگر جلد ہی خود کو سنبھال لیا۔آواز سگاں سے گھبرا کر گوشہ نشینی اختیار کرنا میرے بس میں نہیں۔ زندہ رہنے کے لئے صحافت کے سوا کسی اور ہنر سے آگاہ ہی نہیں۔ اس حوالے سے ’’چکی کی مشقت‘‘ جاری رکھنا ضروری ہے۔ میری ڈھٹائی سے اکتاکر سوشل میڈیا کے تلنگے بتدریج مجھے........
