menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

"کڑوی گولیاں" کھاتے ...

19 0
21.07.2026

بارہا اعتراف کیا ہے کہ علم معاشیات کی مبادیات سے بھی نابلد ہوں۔ محدود آمدنی کا تنخواہ دار ہوتے ہوئے مہنگائی کی شدت مگر روزمرہ زندگی کی ضروریات کی بدولت محسوس کرسکتا ہوں۔ طلب ورسد کی منطق سے زیادہ ہمارے کاروباری طبقے کی ہوس منافع میری دانست میں مہنگائی کا بنیادی سبب ہے۔ سرکار کو وادی سندھ کا باشندہ ہوتے ہوئے ’’مائی باپ‘‘ تصور کرنا میری جبلت میں شامل ہے۔ بچپن سے جن بادشاہوں کی تعریفیں پہلے داستانوں اور بعدازاں کتابوں میں پڑھیں اپنے مخبروں سے روزمرہّ ضرورت کی اجناس کے نرخ جاننے کو بے چین رہا کرتے تھے۔ بسااوقات بازار میں ہوس منافع کو قابو میں رکھنے کے لئے سرکار مائی باپ بذاتِ خود روزمرہّ ضرورت کی اشیاء کا تعین کرتی۔ انہیں شہر کی دیواروں پر چسپاں کیا جاتا۔بازاروں میں ڈھونڈورچی بھی شاہی فرمان سے آگاہ رکھتے۔برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوس منافع نے جب 1857ء میں غدر بھڑکایا تو وہاں کی ملکہ نے مقامی بادشاہوں کی جگہ لی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مادر وطن یعنی برطانیہ کی نگرانی میں برصغیر پاک وہند میں قائم حکومت کی انتظامی مشینری بھی قیمتوں پر کڑی نگاہ رکھتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ مالیہ کی وصولی کی وجہ سے برطانوی ہند کے اضلاع کے حتمی افسران کو کلکٹر یعنی مالیہ اکٹھاکرنے والا افسر پکارا جاتاتھا۔ 1857ء کے بعد ملکہ کی متعارف کردہ حکومت میں یہ عہدہ بتدریج کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کہلوانے لگا۔ سپیشل برانچ کے چٹ کپڑی (سفید پوش) یا وردی کے بجائے عام شہری لباس پہنے سپاہی محلوں کی دوکانوں پر اشیاء کی قیمتوں پر نگاہ رکھتے۔ مہنگائی کے شکوے اعلیٰ حکام کو فی الفور پہنچادئے جاتے۔ روزمرہّ زندگی کے لئے لازمی اشیاء کے نرخوں کے اس نظام کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے بھارتی بنگال کے مشہور محقق ڈاکٹر امرتا سین نے برطانوی دور کے دوران۔بنگال کے قحط کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سمجھایا تھا کہ اشیائے........

© Nawa-i-Waqt