menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

دال روٹی اور کروڑوں ...

19 0
18.07.2026

کبھی کبھی ایک جملہ صرف جملہ نہیں ہوتا ، وہ پورے معاشرے کے زخموں پر نمک بن جاتا ہے جب ٹی وی سکرین پر بیٹھے ہوئے لوگ یہ بحث کرتے ہیں کہ ‘‘128 روپے میں دو روٹیاں، سالن، رائتہ، سلاد اور آدھی بوتل مشروب کے ساتھ کھانا کھایا جا سکتا ہے’’، تو شاید وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکنا بھول جاتے ہیں جو شام ڈھلے اپنے بچوں کو پانی پلا کر سلا دیتی ہے تاکہ انہیں بھوک کا احساس کم ہو جائے۔مہنگائی صرف اعداد و شمار نہیں ہوتی ۔ یہ اس مزدور کے پھٹے ہوئے ہاتھ ہیں جو پورا دن اینٹیں اٹھاتا ہے ، مگر شام کو گھر جاتے ہوئے صرف چار روٹیاں خریدنے کے لیے جیب ٹٹولتا رہ جاتا ہے یہ اس رکشہ ڈرائیور کی خاموشی ہے جو صبح سے رات تک سڑکوں پر دھوپ میں جلتا رہتا ہے، لیکن گھر پہنچ کر بچوں کی فرمائش سننے سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس انکار کے سوا کچھ نہیں۔پاکستان کے گلی کوچوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ روزانہ ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کا تصور بھی صاحبِ حیثیت طبقہ نہیں کر سکتا ۔ ایک مزدور کی روزانہ کی آمدنی اگر ایک ہزار سے بارہ سو روپے بھی ہو تو اس میں گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم، دوا، سفر اور راشن سب شامل ہوتے ہیں ۔ ایسے میں اگر صرف ایک وقت کے کھانے پر دو یا تین سو روپے خرچ ہو جائیں تو باقی دن کیسے گزرتا ہوگا؟ذرا کسی سرکاری ہسپتال کے باہر کھڑے ہو کر دیکھئے وہاں ایک باپ اپنے بیمار بچے کے لیے دوا خریدنے اور گھر کے لیے آٹا لینے کے درمیان فیصلہ کرتا نظر آئے گا ۔ وہ اکثر دوا چھوڑ دیتا........

© Nawa-i-Waqt