سہیل آفریدی بنام وزیر اعظم، شکوہ جواب شکوہ کب تک؟
گزشتہ روز ہی خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو وزیر اعظم سے رابطہ کا مشورہ دیاتھا جسے رد کر دیا گیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کا انجام کیا ہونا ہے، اور اب کی بار سہیل آفریدی بنام وزیر اعظم کی پالیسی ہی نے کھل کر سامنے آیا ہے، معروضی حالات میں صوبائی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے گریز کی سیاسی وجوہات کو سمجھنا مشکل نہیں، نیز جوانسال وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کے لئے بھی اس میں درپیش مشکلات ہچکچاہٹ اور جھجھک کی وجوہات موجود ہیں، لیکن وزیراعظم سینئر سیاستدان ہیں وہ دباو بھی برداشت کر سکتے ہیں نیز معمر ہونے اور زیادہ بڑے عہدے پر ہونے کی بناء پر اگر وہ پہل کرکے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے از خود رابطہ کریں اوران کو ملاقات کی دعوت دیں تو اس سے ان کا قدکم نہیں ہوگا حالات کو سدھارنے کے لئے کسی نہ کسی کو پہل کرنا ہی ہو گا۔
یہ درست ہے کہ اس ممکنہ و مجوزہ ملاقات کے باوجود بھی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خود سے کوئی فیصلہ نہیں کر پائیں گے اور عین ممکن ہے کہ وہ اس ملاقات ہی کی حامی نہ بھرسکیں، بہرحال ہر دو صورتوں میں کم از کم وفا ق کی جانب سے یہ ایک اچھا پیغام........
