menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سنتِ ابراہیمی کا احیاء اور 9 ذوالحجہ کا روزہ (آخری حصہ)

14 0
26.05.2026

عید الضحٰی محض ایک روایتی تہوار یا گوشت کھانے کا موقع نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم تاریخی واقعے کی یادگار اور گہرے روحانی و اخلاقی فلسفے کا امین ہے۔ اس دن مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی اور اطاعتِ الٰہی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس عظیم الشان دن کا براہِ راست تعلق جدِّ انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندگی کے مختلف ادوار میں سخت آزمائشوں میں ڈالا اور وہ ہر آزمائش میں سرخرو ہوئے۔

قربانی ان کی سب آزمائشوں سے بڑی اور بھاری آزمائش تھی جس میں وہ سرخرو ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی داستانِ حیات محض چند تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ عشق، اطاعت اور تسلیم و رضا کا ایک ایسا آفاقی فلسفہ ہے جس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس ایمان افروز تذکرے کا آغاز نارِ نمرود کے معرکے سے ہوتا ہے جہاں ایک طرف مادی طاقت کی دہکتی ہوئی آگ تھی اور دوسری طرف خلیل اللہ کا غیر متزلزل ایمان۔ عقل کہتی تھی کہ آگ کا کام جلانا ہے اس لیے پیچھے ہٹ جاؤ، لیکن عشقِ حقیقی کا تقاضا کچھ اور تھا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بے دھڑک اس آگ میں کود پڑے تو اللہ کا فرمان جاری ہوا۔

’’’ا ے آگ! تو ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر۔ ‘‘

یوں وہ ہولناک شعلے ایک دم سرد پڑ کر گلزار بن گئے اور کائنات نے دیکھ لیا کہ جب ایمان کامل ہو تو مادی اسباب ہیچ ہو جاتے ہیں جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا:

آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

آگ کے اس امتحان سے سرخرو ہو کر نکلے تو آزمائشوں کا رخ بدلا اور حکم ملا کہ اپنی شریکِ حیات حضرت ہاجرہ اور........

© Express News