menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

بری حکمرانی کا ذمے دارکون؟

15 0
yesterday

بعض اپوزیشن رہنما بالخصوص پی ٹی آئی کے کچھ رہنماحکومت دشمنی میں ایسے ایسے سیاسی بیانات دے دیتے ہیں جو قابل اعتراض ٹھہرتے ہیں۔حکومت سے سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر اپوزیشن رہنماؤں کو بیانات دیتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ہر رکن اسمبلی خواہ اس کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب مخالف سے اسمبلی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت ملک سے وفاداری کا عہد کرتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ بعدازاں بعض اپوزیشن رہنما حکومت مخالفت میں ہر حد پار کر جاتے ہیں اور کچھ تو ایسے بیانات دے دیتے ہیں جس سے ملکی سالمیت اور وفاداری کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی کچھ ایسی ہی شکایات سامنے آتی ہیں ۔

انھوں نے پہلے رکن اسمبلی اور بعد میں وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے پاکستان سے وفاداری اور ملک سے خیرخواہی کا عہد کیاہوا ہے،ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں وہ ملک کے ایک وفادار وزیر اعلی ہیں مگر ان کی طرف سے بعض دفعہ ایسے بیانات سامنے آ جاتے ہیں، جسے پسند نہیں کیا جاتا۔کیا یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن سیاستداناپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے نامناسب رویہ اختیار کریں۔

ایک وزیر اعلیٰ کو یہ قطعی زیب نہیں دیتا کہ اسے روکنے والے پولیس اہلکار کو یہ کہے کہ ساڑھے چار کروڑ آبادی کے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو روک کر تم ملک توڑنا چاہتے ہو۔ ملک توڑنے جیسے الفاظ استعمال کرنے والا اعلی عہدے کا حامل........

© Express News