بجٹ کی آمد آمد
بجٹ 2026-27 کی عنقریب آمد کا اعلان ہو رہا ہے، متوسط اور نچلے طبقوں کے دل دہل رہے ہیں۔ سوچ رہے ہیں کہ بجٹ مہنگائی گھٹانے سے تو رہا۔ کچھ اس بات پر لرزاں ہیں کہ حکومت کے ساتھ IMF مذاکرات بھی کرتا رہتا ہے، حکومت اس فکر میں ہے کہ کس طرح آئی ایم ایف کو راضی رکھا جائے۔ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 7 فی صد تک پہنچ چکا ہے، سرکاری قرضہ گھربوں روپے سے آگے جا چکا ہے۔
ایک متوسط گھرانے کے اخراجات گزشتہ تین برس میں تقریباً دو سے تین گنا بڑھ چکے ہیں اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کبھی 5 فی صد اور سات فی صد۔بجلی کے نرخ بعض علاقوں میں 60 تا 70 فی صد تک بڑھ چکے ہیں، میں نے کتنے گیس بل بھی دیکھے پہلے کے مقابلے میں 7 گنا اضافہ پایا۔ ادویات کی قیمتوں میں بھی 30 تا 40 فی صد اضافہ نوٹ کیا گیا۔
سب سے زیادہ مشکل میں گھرے وہ پنشنرز ہیں جن کی عمر 65 سے بھی بڑھ چکی ہے۔ نہ کچھ کام کر سکتے ہیں نہ کہیں سفر کے قابل ہیں۔ نہ اس قابل کہ دوا کھائے بغیر بیماری کو برداشت کر جائیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ جلوس نکال سکتا ہے نہ مظاہرہ کر تا ہے۔ یہ ایک خاموش طبقہ ہے۔ پنشن میں اگر 5ہزار کا اضافہ ہوتا........
