یہ فیصلہ کہاں پہنچائے گا؟
فیض احمد فیض اور فیض حمید کا ذکر ایک ساتھ کرتے ہوئے حیا آتی ہے لیکن اس سے مفر نہیں ہے۔ فیض حمید کو سزا ہوئی تو ایک سوال ذہن میں سرسرایا۔ فیض صاحب نے بڑی حسرت سے پوچھا تھا ؎
کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
کب جان لہو ہوگی کب اشک گہر ہوگا
کس دن تری شنوائی اے دید تر ہوگی
کب مہکے گی فصل گل، کب بہکے گا مے خانہ
کب صبح سخن ہوگی کب شام نظر ہوگی
کیا صبح سخن کا سورج طلوع ہو چکا اور وہ حسیں شام ہماری دسترس میں آیا چاہتی ہے جس کی آرزو ہمارے شاعر نے کی تھی؟ اس سوال کا جواب تو میرے پاس نہیں لیکن کچھ ایسا ضرور ہو گیا ہے جس کی توقع نہیں تھی۔ اس لیے فیض حمید کے خلاف کورٹ جنرل مارشل کے فیصلے پر نہ بغلیں بجانے کی ضرورت ہے اور نہ گہری اداسی میں ڈوب کر مایوس ہو جانے کی بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کروٹ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جو ابھی ابھی تاریخ نے ہماری آنکھوں کے عین سامنے لی ہے لہٰذا سوال یہ ہے کہ اس واقعے کا پیغام کیا ہے اور یہ کن عوامل کا پیش خیمہ ثابت ہو گا؟
اس سوال کا جواب نہیں مل سکتا اگر تاریخ ہی کے ایک اور واقعے کی تفہیم نہ ہو جائے جو اس واقعے سے متصل قبل رونما ہوا تھا۔ میرا اشارہ واقعات کے اس سلسلے کی جانب ہے جن کا آغاز 2014 ء کے دھرنے سے ہوا تھا۔ اسی واقعے کی ایک اور کڑی ہے جس میں فیض حمید جسٹس شوکت صدیقی سے یہ کہتے ہوئے پائے گئے تھے کہ میرٹ پر فیصلہ کر کے کہیں میری دو برس کی سرمایہ کاری کو تباہ نہ کر دینا۔ ان دو واقعات کے ذکر سے میری رائے میں ہمیں وہ بنیاد میسر آ گئی ہے جس کی مدد سے تاریخ کی اس کروٹ کو سمجھنا ممکن ہو سکتا ہے۔
بانی تحریک انصاف اور ان کے سیاسی کزن طاہر........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Penny S. Tee
Gideon Levy
Waka Ikeda
Grant Arthur Gochin
Tarik Cyril Amar
Rachel Marsden