menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

تین طاقتوں کی سیاسی شطرنج

22 0
15.07.2026

تاریخی عظمت کے بھولے بسرے احساسات اور غیر متزلزل جارحانہ عزائم میں جکڑے تین اہم دارالحکومت، واشنگٹن، تل ابیب اور تہران، انسانیت کی اجتماعی تقدیر کو عملًا یرغمال بناچکے ہیں۔

بظاہر تو یہ منظرنامہ سخت حریفوں کے درمیان ایک شدید اور نظریاتی جنگ دکھائی دیتا ہے، مگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض مفادات کا ایک باہمی کھیل ہے جو دنیا کے اخلاقی، قانونی اور معاشی ڈھانچے کو یکسر تباہ کر رہا ہے۔ طاقت کو قانون پر فوقیت دینے کی اس مشترکہ پالیسی نے کرۂ ارض کے وسائل، تجارتی شاہراہوں اور عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سیاست کا موجودہ نظام اب سفارتی ضوابط یا عالمی معاہدوں کا مرہونِ منت نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی قانون کی دانستہ پامالی ہی ریاستوں کی طاقت کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کی اس تکونی حکمتِ عملی کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے: تینوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف خونریز تصادم میں مصروف ہیں، لیکن حقیقت میں اسی کشیدگی کا سہارا لے کر اپنی غیر محدود طاقت کو وسعت دے رہے ہیں۔ اگرچہ زبانی کلامی ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملی میدان میں یہ ایک ایسا کاروبار ہے جہاں قومی خودمختاری، انسانی حقوق اور عالمی اداروں کی اہمیت کو بلا جھجھک قربان کر دیا جاتا ہے۔

روایتی سیاسی بیانیہ اس........

© Express News (Blog)