Hikmat Aur Danai
بلاشبہ حکمت اور دانائی کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتی ہے۔ خالق نے کتابِ حق کو سراسر ہدایت اور حکمت قرار دیا ہے۔ میرے سامنے سورہ آلِ عمران کی آیات ہیں جس میں فرمایا گیا ہے "درحقیقت اہلِ ایمان پر اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا ہے جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے"۔
دورِ حاضر کی سامراجی طاقتوں کے سامنے جس طرح ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی اور ان کے ساتھی سینہ تان کر کھڑے رہے اور دنیا کی سپر پاور کے مہلک ترین بموں اور میزائلوں کے خوف سے ان کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔
لگتا ہے سورہ آل عمران کی آیات خالق نے اپنے ایسے ہی جانثار مجاہدوں کے بارے میں اتاری ہیں۔ فرمایا "اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے"۔
پھر آگے چل کر فرمایا، "(اے پیغمبر) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں، وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔
یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے"۔
کتابِ حکمت نے دنیا کی دلکش زندگی کو متاعُ الغرور (ظاہر فریب چیز) قرار دیا ہے۔ فرمایا "اے محمدﷺ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے........
