menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Insan Akhir Kis Cheez Se Mutmain Hota Hai?

33 1
09.02.2026

انسانی تاریخ کا سب سے پرانا، سب سے ضدی اور سب سے زیادہ دھوکہ دینے والا سوال شاید یہی ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کو اندر سے مطمئن کرتی ہے، دل میں اترنے والی خوشی دیتی ہے اور ایک ایسی کیفیت پیدا کرتی ہے جس میں وہ خود سے جنگ بند کر دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی، ایٹم توڑ دیا، مصنوعی ذہانت بنا لی، مگر اب تک اس سوال کا ایک سادہ سا، سب پر لاگو ہونے والا جواب دریافت نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان ایک حیاتیاتی مشین بھی ہے، ایک نفسیاتی معمّا بھی، ایک سماجی مخلوق بھی اور ایک کہانی سنانے والی روح بھی۔

سائنس کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کا ایک حیاتیاتی ڈھانچہ ہے۔ دماغ میں ڈوپامین، سیروٹونن اور آکسیٹوسن جیسے کیمیکلز ہماری کیفیات کو ترتیب دیتے ہیں۔ جب ہم کوئی مقصد حاصل کرتے ہیں تو ڈوپامین انعام کی طرح جاری ہوتا ہے، جب ہم سماجی تعلق میں محفوظ محسوس کرتے ہیں تو آکسیٹوسن قربت کا احساس بڑھاتا ہے، جب زندگی میں توازن اور اطمینان ہوتا ہے تو سیروٹونن اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مگر یہی سائنس یہ بھی کہتی ہے کہ انسان "ہیڈونک ٹریڈ مل" پر دوڑتا رہتا ہے: نئی گاڑی، نیا گھر، نئی کامیابی، چند دنوں کی خوشی، پھر وہی "بیس لائن" گویا مادی کامیابی خوشی دیتی ہے، مگر عارضی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دولت بے معنی ہے، غربت ذہنی دباؤ، بیماری اور عدم تحفظ لاتی ہے، جو خوشی کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ہلا دیتی ہے۔ لیکن ایک حد کے بعد دولت خوشی میں اضافہ نہیں کرتی، بلکہ اکثر اضطراب بڑھا دیتی ہے، کھونے کا خوف، مقابلے کا جنون اور تنہائی۔

تاریخ میں جھانکیں تو ہمیں دو متوازی دھارے نظر آتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے طاقت اور دولت کو خوشی سمجھا اور دوسرے وہ جنہوں نے........

© Daily Urdu