Jab Madam Noor Jahan Ne Fitrat Ko Shikast De Kar Fan Ki Laj Rakh Li
جب میڈم نور جہاں نے فطرت کو شکست دے کر فن کی لاج رکھ لی
فطرت اور فن کی کشتی کروائی جائے تو کون جیتے گا؟ آپ کہیں گے کہ فطرت کا پلہ بھاری ہے مگر ایک موقع ایسا آیا جب میڈیم نور جہاں کے فن نے ان کی فطرت کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ملکۂ ترنم نے اگر کسی سے سچی مچی محبت کی تو وہ اداکار اعجاز درانی تھے۔ دونوں کی شادی 1959 میں ہوئی اور میڈم نے خود کو اپنے سے نو برس چھوٹے اعجاز پر نچھاور کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اعجاز کو ایسے رکھتی تھیں جیسے ہتھیلی کا چھالا۔ ان کے کپڑے استری کرتیں، میچنگ جرابیں اپنے ہاتھ سے پہناتیں، ان کی پسند کے کھانے بناتیں۔ بلکہ بیٹی حنا کے مطابق وہ اعجاز کے سامنے سولہ سال کی لڑکی بن جاتی تھیں۔
جیسا کہ کہانیوں میں ہوتا ہے، دو چار سال تو ہنسی خوشی میں گزرے، اس کے بعد اعجاز نے ادھر ادھر آنکھ لڑانی شروع کر دی اور آخر یہ آنکھ جا کر ٹھہری نئی اداکارہ پروین پر، جنہیں شباب کیرانوی نے فردوس کا فلمی نام دیا تھا اور جن کے ساتھ اعجاز کئی فلموں میں کام کر چکے تھے اور جو میڈم سے 19 سال چھوٹی تھیں۔ میڈم کو بھنک ملی تو انہوں اعجاز سے کہا کہ پینو لمبو سے دور رہو، (دراز قد پروین........
