Panama Canal Ne He America Ko Super Power Banaya
پانامہ کینال نے ہی امریکا کو سپر پاور بنایا
گذشتہ مضامین میں ہم آبنائے ہرمز، باب المندب، نہر سویز، آبنائے باسفورس اور آبنائے جبرالٹر کی اہمیت پر بات کر چکے ہیں۔ بحر اوقیانوس کو بحرالکاہل سے جوڑنے والی اکیاون کیلومیٹر طویل اور دو سو بائیس میٹر (سات سو تیس فٹ) چوڑی پانامہ کینال بھی اتنی ہی اہم بین الاقوامی اقتصادی شاہ رگ ہے۔
نہر پانامہ کی تعمیر سے قبل بحرالکاہل سے بحراوقیانوس آنے جانے والی ٹریفک کو براعظم جنوبی امریکا کا ہزاروں کیلومیٹر طویل ساحلی چکر کاٹنا پڑتا تھا۔ چنانچہ سوچا گیا کہ اگر شمالی و جنوبی امریکا کو جوڑنے والی تنگ زمینی پٹی کے آرپار نہر نکالی جائے تو امریکا کے مشرقی و مغربی ساحل کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ مہینوں کے بجائے ہفتوں میں طے ہو سکتا ہے۔
چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کو ایک سو بارہ برس قبل علاقائی اور پھر عالمی سپر پاور بنانے میں نہر پانامہ کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ اس نہر سے سالانہ چودہ ہزار چھوٹے بڑے مال بردار جہاز گزرتے ہیں۔ چالیس فیصد امریکی کنٹینر ٹریفک، ایشیا کو برآمد کی جانے والی پچانوے فیصد امریکی ایل پی جی اور دو سے تین ملین بیرل تیل روزانہ یہاں سے گزرتا ہے۔ ٹرانزٹ فیس کی مد میں پانامہ کینال اتھارٹی کو ساڑھے پانچ سے چھ ارب ڈالر سالانہ آمدنی ہوتی ہے گویا سات فیصد قومی آمدنی اس نہر سے حاصل ہوتی ہے۔
مگر اس نہر کی تعمیر میں نہر سویز کی تعمیر سے زیادہ تکنیکی مشکلات پیش آئیں۔ اسی لیے پانامہ کینال کو انسانی ہمت اور انجینئرنگ کے اشتراک کا جدید تعمیراتی معجزہ کہا جاتا ہے۔
نہر کی کہانی سن پندرہ سو تیرہ سے شروع ہوتی ہے جب ایک ہسپانوی مہم جو واسکوڈی نونیز کو جنوبی سے شمالی امریکا کے سفر میں پانامہ سے گزرتے ہوئے یہ اچھوتا خیال آیا کہ دو سمندروں کو جدا کرنے والی اس زمینی پٹی کے بیچوں بیچ........
