Munafiqat Ka Mausam Aur Atomi Siasat
منافقت کا موسم اور ایٹمی سیاست
ایران ان ایک سو اکیانوے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پانچ ایٹمی طاقتوں (امریکا، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس، چین)کی یقین دہانی کے بھروسے انیس سو اڑسٹھ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کیے کہ اگلے پچیس برس میں پانچوں جوہری طاقتیں اپنے ایٹمی اسلحہ خانے ختم نہ بھی کر سکیں تو انتہائی کمتر دفاعی سطح تک لے آئیں گی۔ چنانچہ باقی ممالک کو ایٹم بم بنانے کی ضرورت نہیں۔
اس تعاون کے بدلے جوہری طاقتیں غیر جوہری طاقتوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دیں گی اور پرامن استعمال کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں تکنیکی مدد بھی فراہم کریں گی۔ یہ معاہدہ انیس سو ستر سے نافذ العمل ہے۔ سوائے اسرائیل، بھارت، پاکستان اور جنوبی سوڈان اقوامِ متحدہ کے تمام ارکان نے اور پہلے سے موجود پانچ ایٹمی طاقتیں بطور ضمانتی دستخط کر چکے ہیں۔ شمالی کوریا نے انیس سو پچاسی میں دستخط کیے اور دو ہزار تین میں اس معاہدے سے نکل گیا۔
این پی ٹی پر دستخط کرنے والے ممالک سے پانچ بنیادی ایٹمی ممالک نے جو وعدے کیے گئے تھے۔ ان میں سے شائد ہی کوئی پورا ہوا ہو۔ چنانچہ جن ریاستوں نے خود کو اس معاہدے کے تحت جوہری عدم پھیلاؤ کا پابند کیا وہ اب یہ زنجیر توڑنے کے بارے میں پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔
اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو ایک اعلانیہ اور ایک غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت (امریکا، اسرائیل) نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر کاربند ایک غیر ایٹمی ہتھیار بند ملک (ایران) پر آٹھ ماہ میں دوسری بار اچانک حملہ کر دیا۔
اس حملے کے........
