menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ghaza Ka Larkharata Hua Ramzan

30 0
28.02.2026

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔ مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔ وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔

آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔

یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔ آج میں اسے سیر پر لے گیا۔ بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔ مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گزر رہا ہوں۔

کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں........

© Daily Urdu