menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wo Hath Jo Toot Te Hain Rukte Nahi

31 0
05.09.2026

وہ ہاتھ جو ٹوٹتے ہیں مگر رکتے نہیں

صبح کے پانچ بجے ہیں۔ ایک آدمی اٹھتا ہے اور بھوکے پیٹ گھر سے نکلنے کی تیاری کرنے لگتا ہے۔ بغیر کچھ کھائے پئے کیوں کہ گیس نہیں آئی۔ وہ ٹھنڈے پانی سے منہ دھوتا ہے، پرانی قمیص پہنتا ہے اور نکل پڑتا ہے۔ ابھی سورج نہیں نکلا۔ وہ بارہ گھنٹے بعد واپس آئے گا۔ تھکا ہوا، دھول میں لپٹا ہوا، خاموش۔ اس کے ہاتھوں میں چھالے ہوں گے اور جیب میں ایک ہزار روپیہ۔ یعنی تین ڈالر سے بھی کم۔ جبکہ ایک لیٹر پیٹرول آج 1.5 ڈالر کا ہے۔ اس کے پورے دن کی محنت سے وہ صرف دو لیٹر پیٹرول خرید سکتا ہے۔ آٹا مہنگا ہے، دال مہنگی ہے، بوڑھے والدین کی دوائی مہنگی ہے۔ مگر وہ کل پھر اسی وقت اٹھے گا کیونکہ بچوں کو کھانا چاہیے، کرائے کی تاریخ آرہی ہے اور ہمت ٹوٹنے کی اسے فرصت نہیں ہے۔

یہ مزدور ہے۔ یہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسے بس مزدور ڈے کے دن یاد کیا جاتا ہے۔ ایک اور تصویر دیکھیے۔ ایک نجی اسکول کی استانی صبح سات بجے سے دوپہر دو بجے تک پینتیس، چالیس بچوں کو پڑھاتی ہے، ان کو ڈانٹتی ہے، سنبھالتی........

© Daily Urdu