Insan Apni Zuban Ke Neeche Chupa Hai (2)
انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہے (2)
"فوجیوں کی شہادت کو بار بار اجاگر کیا جاتا ہے، لیکن وہ ملک کے دفاع کے لیے تنخواہ دار ملازم ہیں"۔ بظاہر مولانا علامہ زیرک سیاستدان کہلانے والا شخص جو الفاظ بول رہا ہے اس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کے لیے معاوضہ وصول کرتی ہیں لہذا ان کی شہادت ھم پر کوء احسان نہیں؟ انسان کی زبان اسے کسی عمر میں بھی ایکسپو ز کرکے دم لیتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول مبارک ہے "انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہے"۔
اقتدار، پاور اور پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، لیکن جو لوگ ملک و قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، ان کا رتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص یا گروہ اپنے سیاسی فائدے یا غصے کی وجہ سے شہدا کی قربانیوں کو متنازع بناتا ہے، تو وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی۔ اوقات ایکسپوز کرتاہے۔ پاور یا شہرت کا چھن جانا انسان کے لیے ایک بہت بڑا نفسیاتی دھچکا ہوتا ہے نفسیات کی زبان میں اسے "Syndrome Post-Power" یا شدید ذہنی صدمہ کہا جا سکتا ہے۔ جب ایک انسان عروج سے زوال کی طرف آتا ہے، تو اس کی ذہنی کیفیت ویسی ہو جاتی ہے........
