Kya Hua Aur Kya Ho Raha Tha
کیا ہوا اور کیا ہو رہا تھا
دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے اور بڑی طاقتوں کی بے بسی۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں جنگ اور امن کے درمیان لکیر انتہائی باریک ہو چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان ایک بار پھر سفارتی میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ بحران میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا ہے جو کئی بڑی طاقتیں ادا کرنے میں ناکام رہیں۔ منظرنامہ گو کہ بہت خوشگوار بھی نہیں مگر تھوڑا پُر امید ضرور ہے۔ کیا ہوا اور کیا ہو رہا تھا، اس پر بات کرنے کے ساتھ کیا پسِ پردہ ہوا اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ مضمون تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے سبب طویل ہو سکتا ہے لیکن اب تک کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
امریکا، دنیا کی سب سے بڑی فضائیہ کے ساتھ سب سے بڑی بحریہ رکھتا ہے علاوہ ازیں گلف ممالک سمیت دنیا بھر میں فوجی اڈوں کی تعداد 119 ہے۔ اس کو اپنی طاقت پر اس قدر غرور ہے کہ وہ برملا کہتا رہتا ہے "میں کلا ای کافی آں۔ متھے رنگ دیاں گا"۔ اس طاقت کے ساتھ جڑتی ہے اسرائیل کی طاقت تو وہ اس اتحاد کو لگ بھگ فولادی دیوار بنا دیتی ہے۔ اٹھائیس فروری کو جب امریکا نے ایران پر پہلے حملے میں ہی سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کو نشانہ بنا کر مُکا ہوا میں لہرا دیا تو اس سمیت دنیا کو لگنے لگا کہ اب ایران ڈھ جائے گا۔ نظام بدلا جائے گا اور ایرانی عوام اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔ لیکن اگلے چوبیس گھنٹوں میں یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ منظر امریکا کا خواب تھا۔ ایرانی قوم بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہوگئی اور پھر ایران کا جوابی وار شروع ہوا۔
پہلے چوبیس گھنٹوں میں ہی ایران کی جانب سے امریکی بحری بیڑے ابراہیم لنکن کو نشانہ بنانے کی خبر آئی۔ امریکا نے اسے مسترد کیا لیکن جلد ہی دنیا جو معلوم ہوگیا کہ کچھ تو ہوا ہے۔ ابراہیم لنکن کو امریکا وار زون سے نکال کر دور لے گیا۔ عملی طور پر بحری بیڑہ ناکارہ ہوا۔ دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کی داستان اس سے زیادہ سنسنی خیز ہے۔ اس میں اچانک لانڈری میں آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ ایران دعویٰ کرتا ہے اس نے جیرالڈ فورڈ کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکا حسب معمول دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے تکنیکی خرابی (سیوریج کے نظام کی خرابی) قرار دیتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر جیرالڈ فورڈ بھی وار زون سے دور لے جایا جاتا ہے۔ یعنی امریکی بحریہ عملاً جام ہو جاتی ہے۔ بیڑے تو موجود ہیں لیکن رینج سے دور کھڑے ہیں۔ کس قدر فعال یا تباہ حال ہیں یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی بحریہ کی حالتِ زار ہی وہ سبب بنتی ہے جس کے زیر اثر ٹرمپ نیٹو اور اتحادیوں کو پکارنے لگتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش تیل کے بحران کے ساتھ معاشی منڈیوں یعنی سٹاک ایکسچینجز پر بھی برا اثر ڈالنا شروع ہوتی ہے۔ معاشی دباؤ بڑھتا ہے مگر ہرمز کو کھلوانے کوئی آگے نہیں آتا۔ یہ تھی امریکی بحریہ کی "مائٹ" اور اس پر ایرانی گھونسا۔
امریکی فضائیہ کی داستان مضحیکہ خیز بھی ہے اور سنسنی خیز بھی۔ اب تک سولہ جہاز بشمول ایف ففٹین، ایف پینتیس اور کے سی 135 ری فیولر کے یا تو گر کر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں یا عملاً ناکارہ ہو گئے ہیں۔ زخمی جہازوں کی تعداد اس کے سوا ہے۔ امریکا اسے "فرینڈلی فائٹ" کہتا ہے اور کبھی "تکنیکی مسئلہ" لیکن ایران اسے اپنی کارکردگی قرار دیتا ہے۔ علاوہ ازیں ڈرونز چاہے اسرائیلی ہوں یا امریکی وہ بھی گرائے گئے ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ بات ایف 35 کا ناکارہ ہونا ہے۔ امریکی فضائیہ اور دنیا کا مہنگا ترین جہاز جس کو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین کیا گیا اور جس پر امریکا کا دعویٰ رہا کہ وہ ناقابل نشانہ ہے۔ اس کا نشانہ بنانا عسکری تاریخ میں کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس نے امریکی تشخص کو مسخ کیا ہے اور اس کی پول اُدھیر کر رکھ دی ہے۔
وہ جہاز جو ریڈار پر نظر نہیں آ سکتا تھا اس کو ایران نے انفرا ریڈ ریڈار ہر ٹریک کیا۔ لاک کیا اور نشانہ بنا دیا۔ آج سے چالیس سال پرانی انفرا ریڈ ٹیکنالوجی جو شاہ کے زمانے میں ایرانی فوج کا حصہ بنی تھی اس نے دنیا کا مہنگا اور ناقابل تسخیر جہاز نشانہ بنا ڈالا۔ ٹرمپ اسی لیے کہتا ہے "ہمارا مقابلہ اونچے آئی کیو والے لوگوں سے ہے"۔ ایف 35 کو ہیٹ سگنلز سے ٹریک کیا گیا۔ جدید ریڈارز کی ضرورت ہی نہیں پڑی........
