Haji Mastan (2)
میٹروپولیٹن یا بڑے تجارتی شہروں میں ایک تو سرکاری حکومت ہوتی ہے اور ایک غیر سرکاری مگر متوازی جسے عرف عام میں انڈرورلڈ کہا جاتا ہے۔ سرکاری حکومت قانون قاعدے سے چلتی ہے۔ انڈرورلڈ خوف، اعتماد اور شہرت یا اپنی ساکھ سے۔ ستر کی دہائی کے وسط کا بمبئی انہی دو حکومتوں کے درمیان تقسیم تھا۔ دن کے وقت عدالتیں کھلتی تھیں مگر شام ڈھلتے ہی کئی مالیاتی و زمینی تنازعات ایسے دروازوں پر پہنچ جاتے جہاں نہ جج بیٹھتا تھا، نہ وکیل۔ وہاں صرف ایک شخص بیٹھتا تھا اور اس کا فیصلہ دونوں فریق خاموشی سے قبول کر لیتے تھے۔ بمبئی میں اگر کسی ایک نام نے اس غیر رسمی عدالت یا انڈرورلڈ آپریشنز کو سب سے زیادہ طاقت دی تو وہ کریم لالہ تھا۔
عبدالکریم خان پاکستان کے سرحدی علاقے سے روزگار کی تلاش میں بمبئی آیا تھا۔ اس زمانے میں بمبئی صرف ہندوستان کا شہر نہیں تھا بلکہ پورے برصغیر اور آس پاس کے خطے کا معاشی مرکز تھا۔ افغانستان، پشاور، نیپال، برما وغیرہ سے لوگ یہاں قسمت آزمانے آتے تھے۔ کریم لالہ بھی انہی ہزاروں مہاجروں میں شامل تھا مگر اس کے خواب دوسروں سے بڑے تھے۔ اس کے پاس نہ سرمایہ تھا، نہ تعلیم، نہ کوئی بڑا ہنر لیکن ان کے پاس ایک چیز تھی جس کی بمبئی کی گلیوں میں ہمیشہ قیمت رہی ہے اور وہ تھی اثر پیدا کرنے کی صلاحیت۔ اس نے بمبئی میں ایک سوشل کلب قائم کیا جو حقیقت میں جوئے کا اڈہ تھا۔ وہاں روزانہ ہر طبقے کے لوگ آتے۔ کوئی اپنی قسمت آزمانے، کوئی اپنی قسمت ہارنے۔ جو لوگ ہار جاتے، انہیں قرض درکار ہوتا۔ قرض کے ساتھ سود آتا اور سود کے ساتھ ایک نیا کاروبار جنم لیتا۔ رفتہ رفتہ کریم خان صرف جوئے کے اڈے کا مالک نہ رہا بلکہ قرض دینے والا "لالہ" بن گیا۔ یہی لقب آگے چل کر اس کی شناخت بن گیا۔ کریم لالہ۔
بمبئی میں آباد پٹھان برادری تعداد میں زیادہ تھی اور باہمی رشتوں کو اہمیت دیتی تھی۔ جب کسی کو جھگڑا پیش آتا، جب کوئی گرفتار ہوتا، جب کسی کو مالی یا جسمانی مدد درکار ہوتی تو لوگ کریم لالہ کے پاس پہنچتے۔ اس نے اپنے گرد وفادار لوگوں کا ایک حلقہ بنا لیا۔ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں تھی، لیکن ہر شخص جانتا تھا کہ اگر کریم لالہ نے کسی کی حمایت کا اعلان کر........
