Dua Hai Iran Salamat Rahe
دعا ہے ایران سلامت رہے
ٹرمپ کا پانچ دن کی مہلت کا اعلان عام اعلان نہیں اس کے پیچھے بہت سے عناصر کارفرما رہے ہیں اور ان میں ایک پاکستان ہے۔ پاکستان نے اپنا کردار کمال احسن طریقے سے ادا کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران میں فیصلہ کون کرے گا؟ سپریم لیڈر کی خاموشی، مسعود پزشکیان کی محتاط گفتگو، یا پاسداران انقلاب کے کمانڈرز۔ یہ تینوں اکائیاں مل کر ایران کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں جس میں کسی ایک دروازے سے داخل ہو کر کوئی معاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لیے قالیباف کا نام اچانک ابھرا ہے۔ قالیباف نہ صرف انقلابی گارڈ کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کے اندر ایک ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جو سخت مؤقف رکھنے والوں کو بھی مطمئن رکھ سکتا ہے اور بیرونی دنیا سے بات بھی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی دروازہ کھلے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ اسی راستے سے کھلے۔
پاکستان اس پوری بساط پر ایک اور غیر متوقع کھلاڑی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ریاض میں ہونے والی ملاقاتیں ہوں، ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے ہوں یا ایرانی قیادت کے نوروز پیغام میں پاکستان کا غیر معمولی ذکر اس کے بعد فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہونا اور پھر اچانک امریکی پالیسی میں وقتی نرمی۔ اس کے فوراً بعد وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو اور اعلیٰ سطحی وفود کی........
