Bodi Qasai, Kugi Butt, Shahzad Bhatti Aur Inamu Vance
بودی قصائی، کُگی بٹ، شہزاد بھٹی اور انعامو وینس
جرم کی دنیا پر لکھتے ہوئے ایک عمر گزر سکتی ہے، مگر اس کے کردار ختم نہیں ہوتے۔ لاہور گینگ وار، اجرتی قاتلوں، پولیس مقابلوں اور ان کرداروں کو ٹھکانے لگانے والے اہلکاروں پر تفصیلی کالم لکھ چکا ہوں۔ ہر دور میں چہرے بدلتے ہیں، طریقۂ واردات بدلتا ہے، مگر طاقت، دولت، دشمنی اور خوف کی وہی پرانی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ جاری رہتی ہے۔
آج پنجاب کی سی سی ڈی پر تین ہزار کے قریب مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات ہیں جبکہ متاثرین اور ان کے ورثا کی جانب سے سو سے زائد درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا بتائی جاتی ہیں۔ تاریخ کا سبق البتہ واضح ہے کہ طاقت کے سائے میں ہونے والی ہر کارروائی ہمیشہ بے حساب نہیں رہتی۔ وقت بدلتا ہے تو فائلیں کھلتی ہیں، گواہ سامنے آتے ہیں اور وردی سمیت ہر منصب پر فائز شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ یہی ہماری تاریخ ہے۔
آج بھی چار بڑے گینگز آپریٹ کر رہے ہیں اور سی سی ڈی کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کے آپریٹ کرنے کا طریقہ کار شوٹرز یا اجرتی قاتلوں پر منحصر ہے۔ مریدکے میں ایک نام بودی قصائی کا ہے جس کا خوف مریدکے میں طاری ہے۔ بودی قصائی کا معاملہ ذاتی رنجش یا ذاتی دشمنی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ قصائیوں کا خاندان ہے اور ان کے مد مقابل بااثر سیاسی لوگ ہیں۔ بودی قصائی کے تین سگے بھائیوں سمیت اس کے اہلخانہ اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اگلے جہاں پہنچ چکے ہیں اور بودی قصائی نے بھی اپنے مخالفین کو پار لگایا ہے۔ معاملہ ذاتی دشمنی سے بڑھ کر اب بھتہ خوری اور متنازعہ زمینوں کے معاملات کی سیٹنگز تک جا پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق بودی قصائی ملک سے باہر........
