menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Anmol Queen: Sirf Naam He Kafi Hai

33 0
13.05.2026

انمول کوئین: صرف نام ہی کافی ہے

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کوکین بیچ کر "برانڈ" بن جاتے ہیں۔ منشیات کی دنیا میں کولمبیا ڈرگ مافیا کی گریسلڈا بلانکو کو کوکین کوئین کا خطاب ملا تھا۔ یہ کہانی ہے پاکستانی کوکین کوئن انمول عرف پنکی کی۔ دنیا بھر میں کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کی مارکیٹنگ پر اربوں خرچ کرتی ہیں مگر پنکی نے ایسا برانڈ متعارف کروایا کہ شوبز سے لے کر بیوروکریسی تک سب اس کے ریگولر کسٹمر نکل آئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں پنکی نے ماڈلنگ کی غرض سے نجی پارٹیوں میں جانا شروع کیا جہاں منشیات کا استعمال عام ہوتا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو ملائیشیا میں رہتا تھا اور کوکین کا سپلائر تھا۔ وہ شخص عالمی مافیا سے رابطہ رکھتا تھا۔ پنکی نے اس سے شادی کی۔ اس سے کوکین کو "کُک" کرنا سیکھا اور پھر اس نے اپنی لیبارٹری تیار کر لی۔ تیزی سے وہ اس مقام پر پہنچ گئی جہاں اس کی کوکین منشیات کی دنیا میں ایک برآنڈ بن گئی۔

ایک گرام عام کوکین کی قیمت دس سے بارہ ہزار ہے۔ مگر انمول کوئین کے نام سے تیار کوکین کی قیمت پچیس ہزار تھی۔ اس کی ایک اور کوالٹی تھی جسے گولڈن انمول کوئین کہا جاتا تھا۔ اس کی ایک گرام کی قیمت چالیس ہزار تھی۔ پنکی نے دوسری شادی لاہور میں ایک پولیس افسر (ڈی ایس پی) سے کی۔ اس کی کوکین لیب سٹیٹ آف آرٹ تھی۔ تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ اس نے انٹرنیٹ کی مدد سے نت نئے فارمولے سیکھے جن کو آزما کر اس نے اپنی کوکین تیار کی۔

انمول کوئین کوکین کی دھوم کافی تھی۔ شوبز سٹارز، کھلاڑی، افسران سمیت سٹوڈنٹس اس کے گاہک تھے۔ ہوم ڈلیوری کے لیے اس نے کراچی میں چار رائیڈر رکھے ہوئے تھے۔ پیسہ اتنا تھا کہ اس نے کئی بار سڑکوں........

© Daily Urdu