Sohail Sukhera Model, Khatarnak Mujrim Khatre Mein
سہیل سکھیرا ماڈل، خطرناک مجرم خطرے میں
فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ یہ صنعتی ترقی کا مرکز تو ہے ہی لیکن بڑی آبادی کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل سٹی ہونے کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان حالات میں اس کاروباری مرکز میں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنا ہمیشہ سے چیلنج رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسی ریجن سے ایک ایسی خبر ملی جس نے چونکا دیا۔ کرائم آبزرور کی حیثیت سے میں نے اس ایک خبر کی بنیاد پر کام کیا تو مزید ڈیٹا سامنے آ گیا۔
ان دنوں فیصل آباد کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل اختر سکھیرا ہیں۔ یہ آفیسر اس سے پہلے لاہور جیسے مشکل شہر میں بھی سروس کر چکے ہیں اور پنجاب کی سطح پر بھی آپریشنز کی کمانڈ کرتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے فیصل آباد ریجن میں کرائم کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اہم بات نہیں ہے کیونکہ ہر ڈی پی او اور آر پی او جرائم کے خلاف کریک ڈاون کرتا ہے۔
میرے لیے اہم چیز قتل کے اشتہاری ملزمان کا وہ ڈیٹا ہے جو اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ کرائم رپورٹر جانتے ہیں کہ قتل کا ملزم اشتہاری ہو جائے تو وہ کتنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ وہ معاشرے میں آزاد نہیں رہ سکتا، کوئی کاروبار یا ملازمت نہیں کر سکتا۔ اسے ہر وقت مخالفین اور پولیس دونوں سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس لیے عموماً ایسے ملزمان اپنے گینگ بنا کر سنگین جرائم کے راستے پر چل نکلتے ہیں جن میں ڈکیتی، راہزنی اور قتل کے ساتھ ساتھ پولیس مقابلے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے جو........
