Badalti Maeeshat Aur Hospitality: Aik Taleemi Aur Fikri Zawiya
بدلتی معیشت اور ہاسپیٹیلٹی: ایک تعلیمی اور فکری زاویہ
پاکستان کی جواں سال آبادی، جو بیک وقت ملک کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ اور اجتماعی مستقبل کا ایک گراں قدر سوال بھی ہے، آج تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر خیمہ زن ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ صدیوں پرانے فرسودہ تعلیمی فریم ورک اور روایتی اسناد کے بے مقصد انہماک کا بوجھ اٹھائے رکھے گی، یا اُس بے رحم مگر متحرک عالمی معیشت کا حصہ بنے گی جو کاغذی ڈگریوں کے انبار کو رد کرتے ہوئے خالص ہنر، عملی قابلیت اور تخلیقی صلاحیت کو ہی کامیابی کی واحد اور حتمی کسوٹی تسلیم کرتی ہے۔
یہ بحث محض کسی نصابی یا نظریاتی مباحثے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق ہماری اجتماعی معیشت، روزگار کے مواقع اور ملکی ترقی کی رفتار سے ہے۔ اگر عالمی اقتصادی تناظر کا بغور جائزہ لیا جائے تو سیاحت اور مہمان نوازی کا شعبہ اُن چند کلیدی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی صنعتوں کی صفِ اول میں نظر آتا ہے جو ہر گزرتے برس کروڑوں نئی ملازمتیں پیدا کرتی ہیں اور عالمی سرمائے کی گردش میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان کے اندر یہ نفع بخش شعبہ طویل عرصے تک اُس درکار علمی سنجیدگی، ریاستی سرپرستی اور ادارہ جاتی توجہ سے محروم رہا ہے جو اسے دیگر روایتی اور مراعات یافتہ پیشہ ورانہ مضامین، جیسے کہ سول یا الیکٹریکل انجینئرنگ، انسانی صحت کی ضامن طب، یا روایتی کاروباری انتظام (ایم بی اے)، کے برابر صفِ اول کا مقام دلا سکتا۔
یہی گہرا تعلیمی خلا اور اس خلا کو پُر کرنے کی ایک طویل، جانکاہ اور صبر آزما تپش، دراصل یونیورسٹی آف گجرات کے انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ مینجمنٹ (IHRM) کی تاریخ کا وہ روشن ترین اور مستند ترین متن ہے جو کسی ایک فرد، ایک تعلیمی سیشن یا چند سالوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ فکری تسلسل، ایک جرات مندانہ خواب کی باقاعدہ وراثت اور پاکستانی معاشرے میں ایک پسماندہ سمجھے جانے والے شعبے کے سماجی امیج کو یکسر بدل دینے کی مسلسل جہدِ مسلسل کا نام ہے۔
خواب سے تعبیر تک: ادارہ جاتی ارتقاء کا سفر
کسی بھی پائیدار ادارے کا آغاز روایتی انتظامی فیصلوں یا فائلوں کے تبادلے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پسِ منظر میں ہمیشہ ایک دور اندیش خواب کارفرما ہوتا ہے۔ سن 2007ء کا وہ دور جب پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں مہمان نوازی یا ہاسپیٹیلٹی جیسے جدید شعبے کا تصور بھی ناپید اور اجنبی تھا، اُس وقت جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے یہ جرات مندانہ خواب دیکھا کہ ایک سرکاری پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے اندر بھی ایک ایسا بین الاقوامی معیار کا ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے جو طلبہ کو عالمی سطح کا ہاسپیٹیلٹی ایجوکیشن ماڈل فراہم کرے۔
اُس وقت کے رجعت پسند تعلیمی منظرنامے میں یہ فیصلہ بلاشبہ انتہائی غیر روایتی اور خطرات سے پُر تھا۔ کسی بھی بلند آہنگ خواب کو عملی زمین پر اتارنے کے لیے محض بلند بانگ دعوے یا نعرے کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے ایسے ماہر ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے جو طویل فیلڈ کا عملی تجربہ رکھتے ہوں۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر نظام الدین نے امریکہ میں برسوں خدمات انجام دینے والے ممتاز پاکستانی نژاد شیف اور ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری کے کہنہ مشق ماہر یاسر افتخار کو اس نوزائیدہ ادارے کے قیام، پالیسی سازی اور مکمل انصرام کی کٹھن ذمہ داری سونپی۔
یہ فیصلہ اپنے اندر ایک گہرا علامتی بیان رکھتا تھا، کہ یہ ادارہ کتابی نظریات........
