Qurbani, Ishq e Ilahi Ki Dastan
قربانی، عشقِ الٰہی کی داستان
تاریخ عالم میں بہت سے ایسے واقعات صفحہ قرطاس پر ابھرے جنہوں نے انسانی ذہنوں پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ ان میں کئی فاتحین نے ایسے لازوال معرکے لڑے جو رہتی دنیا تک اپنی مشال آپ بنے۔ مگر کچھ واقعات ایسے ہیں جو تاریخ نہیں بنتے، وہ انسانی شعور کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا واقعہ بھی انہی لازوال حقیقتوں میں سے ایک ہے۔
یہ صرف ایک مذہبی حکم نہیں تھا، یہ انسان کے اندر موجود "میں"کے قتل کی پہلی اور سب سے بڑی مشق تھی۔ حضرت ابراہیمؑ وہ ہستی ہیں جنہیں خالقِ کائنات نے اپنا خلیل کہا۔ خلیل یعنی ایسا تعلق جو دوستی سے آگے، محبت سے اوپر اور وابستگی سے بھی گہرا ہو۔ مگر یہی خلیل جب امتحان کے میدان میں اترتا ہے تو وہاں جذبات، رشتے اور خواہشات سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وہاں صرف ایک آواز باقی رہتی ہے، "بلا حیل و حجت۔ تعمیل حکمِ الٰہی"۔
وہ بیٹا جس کے لیے برسوں دعائیں مانگی گئیں، وہ بیٹا جو بڑھاپے کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کا سہارا بنا، وہ بیٹا جو تنہائیوں کا جواب تھا، اچانک ایک خواب کی صورت میں قربانی کے لیے مانگ لیا جاتا ہے اور یہ کوئی عام خواب نہیں تھا، یہ وحی کی وہ زبان تھی جس کے سامنے انبیاء بھی سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء کے خواب مبنی بر حقیقت اور رضائے الہی سے مشروط ہوتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسانیت کی عام منطق ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ عام انسان........
