menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehangai Ka Afreet Aur Uss Ka Tadaruk

22 0
06.05.2026

مہنگائی کا عفریت اور اس کا تدارک

شہر کی سڑکوں پر شام اترتی ہے تو روشنیوں کے ساتھ ایک عجیب سی تھکن بھی پھیل جاتی ہے۔ یہ تھکن صرف جسموں کی نہیں، جیبوں کی بھی ہوتی ہے۔ کبھی یہی سڑکیں زندگی کی روانی کا استعارہ تھیں، آج ہر گزرتی گاڑی، ہر رکتے رکشے اور ہر خاموش موٹر سائیکل ایک سوال بن چکی ہے: آخر یہ ازیت ناک سفر کب تک؟

مہنگائی اب کوئی عارضی طوفان نہیں رہی، یہ ایک مستقل موسم بن چکی ہے۔ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ عرصے میں کئی مہینوں تک 25 سے 30 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ خوراک کی مہنگائی بعض اوقات 35 سے 40 فیصد تک جا پہنچی۔ لیکن اصل کہانی ان اعداد کے پیچھے چھپی ہے اور یہ کہانی صرف پٹرول تک محدود نہیں رہی، بلکہ بجلی اور گیس کی روز افزوں بڑھتی قیمتوں نے اس بحران کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

آج ایک چھوٹا صنعتکار سب سے زیادہ پریشان ہے۔ پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 40 سے 60 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں دوگنی تک ہے۔ گیس کے شعبے میں صورتحال مزید سنگین ہے، درآمدی LNG کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کے باعث صنعتی گیس ٹیرف میں بعض کیسز میں 100 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کا براہِ راست اثر یہ ہوا کہ کئی شعبوں میں پیداواری لاگت 30 سے 50 فیصد تک بڑھ گئی۔ ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں نے بارہا نشاندہی کی کہ توانائی کے اخراجات اب کل لاگت کا 25 سے 35 فیصد تک بن چکے ہیں، جبکہ چند سال پہلے یہی تناسب 15 سے 20 فیصد تھا۔

نتیجہ واضح ہے: جو چیز 100 روپے میں بنتی تھی، وہ اب 130 یا 150 روپے میں تیار ہو رہی ہے اور یہ اضافہ آخرکار صارف کی جیب سے ہی نکلتا ہے۔ یوں مہنگائی کا ایک خطرناک دائرہ بنتا ہے: مہنگی بجلی۔ مہنگی پیداوار۔ مہنگی اشیاء۔ کمزو ر قوتِ خرید۔ اس دائرے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ........

© Daily Urdu