Hasan Ibn Sabbah Ki Jannat (1)
حسن بن صباح کی جنت (1)
تاریخ ہمیشہ تلواروں سے نہیں لکھی جاتی، بعض اوقات یہ الفاظ، نظریات اور ذہنوں کی جنگ ہوتی ہے اور یہ جنگ اتنی خاموش ہوتی ہے کہ صدیوں بعد بھی انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ جیتا کیا ہے اور ہارا کیا۔ مولانا رومی ایک عجیب مگر لرزا دینے والا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص اندھیری رات میں مسجد کی طرف نکلا۔ راستہ نہ دکھائی دیتا تھا، قدم بہک گئے اور وہ منہ کے بل کیچڑ میں آ گرا۔ وہ اٹھا، کپڑے جھاڑے اور واپس گھر آ گیا۔ پھر دوبارہ نکلا۔ مگر قسمت نے ایک بار پھر اسے زمین پر دے مارا۔ تیسری بار بھی ناکامی ہوئی۔
یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں تھی یہ انسان کی کمزوری کی علامت تھی۔ مگر پھر کہانی میں ایک موڑ آیا۔ چوتھی بار جب وہ نکلا تو اس کے دروازے پر ایک شخص چراغ لے کر کھڑا تھا۔ خاموشی سے آگے بڑھا اور روشنی دکھاتا ہوا اسے مسجد تک لے گیا۔ نماز کے بعد وہی شخص اسے واپس گھر چھوڑنے آیا۔ دروازے پر پہنچ کر سوال ہوا: "تم کون ہو؟ جواب آیا: میں ابلیس ہوں"۔ یہ جملہ بجلی بن کر گرا۔ مگر اگلے ہی لمحے جو دلیل دی گئی وہ انسانی عقل کو جھنجھوڑ دینے والی تھی۔ ابلیس نے کہا: "میں نے تمہیں گرایا نہیں میں نے تمہیں بچایا ہے۔ اگر تم ایک بار پھر گرتے تو تمہاری وجہ سے تمہارے پورے علاقے پر رحمت اتر آتی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان سمجھتا ہے کہ برائی ہمیشہ برا کام نہیں کرتی بعض اوقات برائی کا کام صرف نظام کو سمجھنا ہوتا ہے اور یہی وہ........
