menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wafadari Ki Saza (1)

23 0
06.06.2026

آج ایک بار پھر میں نے ایک تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے صاحبِ شعور اور دانشور کہلانے والے شخص کو ایک ایسے سیاسی قافلے کے پیچھے چلتے دیکھا جس کی منزل کا خود اسے بھی علم نہیں تھا۔ میں نے اسے اس قیادت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دیکھا تو دل میں عجیب سا صدمہ پیدا ہوا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے سوال یہ تھا کہ آخر ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو ہوا کیا ہے؟

تعلیم تو شعور دیتی ہے آگہی عطا کرتی ہے اچھے اور برے میں فرق کرنا سکھاتی ہے حق اور باطل کی پہچان دیتی ہے مگر ہمارے ہاں الٹا منظر دکھائی دیتا ہے جتنا بڑا ڈگری ہولڈر اتنی بڑی سیاسی غلامی جتنا بڑا دانشور اتنی بڑی شخصیت پرستی۔ لوگ دلیل کی بجائے چہروں کے اسیر ہو چکے ہیں۔ سوال کی بجائے نعرے لگا رہے ہیں اور شعور کی بجائے ہجوم کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں آج بھی قافلے پہ قافلہ چڑھا ہوا ہے لوگ جھنڈے اٹھائے، ہاتھ باندھے نظریں جھکائے اپنے سیاسی آقاؤں کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چل رہے ہیں مگر کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ منزل کہاں ہے۔

اناسی برس گزر گئے قافلے تو بہت نکلے مگر منزل آج تک نہ ملی وہی وفاقی غلامی ہے وہی طاقتور حلقوں کو سلام ہے وہی بے اختیاری ہے وہی آئینی محرومی ہے اور وہی بے بسی گلگت بلتستان کی سرزمین آج وقتی طور پر رنگین دکھائی دے رہی ہے جلسے ہیں جلوس ہیں........

© Daily Urdu