menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tasheer Ka Urooj Aur Amal Ka Zawal

17 0
yesterday

تشہیر کا عروج اور عمل کا زوال

یہ عجیب زمانہ ہے انسان نے جب سے اپنی تشہیر کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا ہدف بنا لیا ہے تب سے اخلاص کردار اور عمل کی اہمیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے لوگ اپنے عمل سے پہچانے جاتے تھے آج اپنی تشہیر سے پہچانے جاتے ہیں، پہلے نام کردار کی وجہ سے بنتا تھا اب کردار نام کی وجہ سے تراشا جاتا ہے۔ شہرت نے خدمت کی جگہ لے لی ہے اور مقبولیت نے اخلاص کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ برسوں خاموشی سے خدمت کرتے تھے علم حاصل کرتے تھے، اپنے کردار کو سنوارتے تھے اور معاشرہ خود انہیں عزت دیتا تھا۔ آج معاملہ اس کے برعکس ہے اب پہلے کیمرہ آن ہوتا ہے پھر خدمت شروع ہوتی ہے پہلے تصویر بنتی ہے پھر کام کیا جاتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمل کا مقصد اللہ کی رضا نہیں بلکہ لوگوں کی داد حاصل کرنا رہ گیا ہے۔

بدقسمتی سے یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں رہی۔ مذہبی سماجی، سیاسی اور علمی حلقے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے مولوی، مفتی، اسکالر، مقرر دانشور سیاست دان، اینکر، یوٹیوبر سب ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جہاں مقصد سچ بولنا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنا بن گیا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی ویڈیو وائرل........

© Daily Urdu