Rasta Bhoolne Ki Saza Maut?
راستہ بھولنے کی سزا موت؟
پاکستان کی سرزمین ہمیشہ اپنی مہمان نوازی محبت اور انسان دوستی کے حوالے سے پہچانی جاتی رہی ہے بلوچستان کا نام آتا تھا تو ذہن میں پہاڑوں کی عظمت سادہ دل لوگ وسیع دسترخوان اور وہ روایت تازہ ہو جاتی تھی کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھول جائے تو اسے منزل تک پہنچانا میزبان کا فرض سمجھا جاتا تھا۔ بلوچ روایات میں مہمان کو خدا کی رحمت کہا جاتا تھا دشمن بھی اگر پناہ مانگ لے تو اسے عزت کے ساتھ ٹھہرایا جاتا تھا لیکن آج دل یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر اس سرزمین کو کس کی نظر لگ گئی؟
کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک خوشحال خاندان اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ سیاحت کی غرض سے کوئٹہ جا رہا تھا وہ کوئی جرائم پیشہ لوگ نہیں تھے نہ کسی دشمنی کا حصہ تھے نہ کسی سازش کے کردار وہ صرف پاکستان کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی خوبصورتی دیکھنے نکلے تھے۔ جدید دور کی روایت کے مطابق گوگل میپ کے سہارے سفر کر رہے تھے راستہ بھول گئے مگر شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس ملک میں بعض اوقات راستہ بھول جانا بھی جرم بن جاتا ہے چند لمحوں بعد گولیوں کی آوازیں گونجیں اور ایک خوشحال گھرانہ اجڑ گیا۔ میاں بیوی خون میں نہا گئے شوہر موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ بیوی زخموں سے چور چور ہوئی جبکہ بچے خوف سے ایسے سہم گئے کہ اب یہ سانحہ انکی زندگی پر بڑے گہرے صدمے کے ساتھ ساتھ باپ کو مرتے دیکھنے کا یہ لمھہ نہیں بھول پائین گے دوسرے لفطوم میں یہ دو معصوم بچے زندگی اور موت کے درمیان کھڑے رہ گئے وہ بچے شاید آج بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ان کے ماں........
