Credit Kis Baat Ka?
گلگت استور فینہ روڈ ابھی بنی نہیں کریڈٹ بانٹنے والے میدان میں اتر آئے ہیں سڑک پر ابھی مشینری کی آواز پوری طرح سنائی بھی نہیں دی مگر سیاسی کریڈٹ کے ڈھول ایسے بج رہے ہیں جیسے فینہ روڈ مکمل ہو چکی ہو افتتاح ہوگیا ہو اور عوام کو اس پر سفر کرتے ہوئے برسوں گزر گئے ہوں۔ عجیب لوگ ہیں کام شروع ہونے سے پہلے کریڈٹ لینے کی ایسی جلدی ہے جیسے سڑک نہیں الیکشن جیت لیا ہو سوال صرف اتنا ہے۔ یہ لوگ آخر کہاں سے آئے ہیں؟
ذرا سڑک بننے دیں مٹی بیٹھنے دیں کام مکمل ہونے دیں پھر کریڈٹ کی تختی بھی لگا لیجیے فیتہ بھی کاٹ لیجیے اور مبارک بادوں کی پوسٹیں بھی کر لیجیے ابھی تو عوام کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سڑک کب مکمل ہوگی مگر کریڈٹ کے دعوے ایسے ہیں جیسے منصوبہ کسی ایک شخص نے اپنی جیب سے تعمیر کروا دیا ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کام سے پہلے کریڈٹ اور ذمہ داری سے پہلے تشہیر شروع ہو جاتی ہے ایسے لوگ عوام سے مخلص نہیں ہوتے ہیں بلکہ اپنی تشہیر کا علمبردار ہوتے ہیں حالانکہ فینہ روڈ کسی کا ذاتی منصوبہ نہیں یہ عوام کی ضرورت ہے، عوام کا حق ہے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والا منصوبہ ہے۔
ہمارے ہاں سڑک بننے سے زیادہ مشکل کام شاید اس کا کریڈٹ طے کرنا ہے۔ سڑک بن جائے تو عوام چند دن خوش رہتے ہیں مگر سیاست کے میدان میں ایک نئی دوڑ شروع ہو جاتی ہے تختی کس کی لگے گی اعلان کون کرے گا؟ افتتاح کس کے نام سے ہوگا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کریڈٹ آخر کس کو ملے گا؟ فینہ روڈ بھی شاید اسی کشمکش کا........
