Aqal Ki Mojoodgi Tehqeeq Ki Mehroomi
عقل کی موجودگی تحقیق کی محرومی
انسان کو جب تخلیق کیا گیا تو اسے محض گوشت پوست کا پیکر بنا کر نہیں چھوڑا گیا۔ بلکہ اس کے اندر ایک ایسی روشنی رکھی گئی جسے عقل کہتے ہیں۔ یہی عقل اس کی پہچان بنی، یہی اس کی برتری کا سبب ٹھہری اسی عقل کے سہارے اس نے زمین کے سینے کو چاک کیا، سمندروں کی تہہ تک جا پہنچا اور آسمان کی وسعتوں میں اپنی پرواز ثبت کر دی مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان نے اپنی عقل کا وہ حق ادا کیا جس کے لیے اسے یہ نعمت عطا کی گئی تھی۔ حقیقت کچھ اور کہتی ہے آج کا انسان عقل رکھتا ضرور ہے مگر اس کا استعمال کم ہی کرتا ہے وہ سوچ سکتا ہے مگر سوچنے سے کتراتا ہے تحقیق اس کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہے غور و فکر ایک غیر ضروری مشقت اس........
