menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sahafi Ka Ahmaqana Dawa

35 0
12.03.2026

صحافی کا احمقانہ دعوی

پاکستان کی سیاسی اور سماجی فضا میں ایک عجیب طرح کا شور برپا رہتا ہے۔ کبھی کوئی تجزیہ کار اپنے قیاس کو خبر بنا دیتا ہے اور کبھی کوئی مبصر اپنی خواہش کو حقیقت کے لباس میں پیش کر دیتا ہے۔ یوں الفاظ کی ایک ایسی دنیا آباد ہو جاتی ہے جس میں حقیقت کم اور قیاس آرائیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ قیاس آرائیاں قومی اداروں کے بارے میں ہوں تو ان کا اثر صرف بحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے ذہن کو متاثر کرتا ہے۔

میڈیا کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی طاقت ہوتی ہے۔ صحافت کا بنیادی مقصد سچائی کو سامنے لانا اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔ لیکن آزادیٔ اظہار کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ جب کسی تجزیے میں ایسی باتیں شامل کر دی جائیں جن کی کوئی مصدقہ بنیاد نہ ہو تو وہ تجزیہ نہیں رہتا بلکہ افواہ بن جاتا ہے۔ افواہ وہ چنگاری ہوتی ہے جو معاشرتی اعتماد کو آہستہ آہستہ جلا دیتی ہے۔

گزشتہ دنوں ایک یو ٹیوب چینل پر ہوسٹ نعیم ثاقب کے ساتھ گفتگو میں ایک صحافی ذوالفقار راحت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان اب عید گھر پر منائیں گے۔ چیزیں طے ہوگئی ہیں۔ فیلڈ مارشل کی جیل میں عمران خان سے ملاقات کروائی گئی اور اس ملاقات کے بعد دونوں میں تمام غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ ماضی میں جو کچھ ہوا ہے، اسے چھوڑنے پر دونوں راضی ہو گئے ہیں اور اب 2026 انتخابات کا سال ہوگا۔ یہ جملے بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتےہیں، مگر اس کے اندر کئی سوالات چھپے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ یہ اطلاع کہاں سے آئی؟ اس دعوے کی بنیاد کیا ہے؟ اور "وہ" کون شخص تھا جس نے یہ ملاقات کروائی؟

یہ سوال اس لیے اہم ہیں کیونکہ پاکستان میں کسی بھی قیدی سے ملاقات ایک باقاعدہ قانونی اور انتظامی عمل کے تحت ہوتی ہے۔ جیلوں کا اپنا نظام ہوتا ہے، عدالتی نگرانی ہوتی ہے اور ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اگر واقعی ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہوتی تو اس کے شواہد، اس کا ریکارڈ اور اس کی تصدیق سامنے آتی۔ محض ایک جملہ کہہ دینا کہ ملاقات ہوئی اور غلط فہمیاں دور ہوگئیں، دراصل ایک ایسا دعویٰ........

© Daily Urdu