Ayatullah Khamenei Ki Shahadat Aur Mashriq e Wusta Ka Badalta Manzar Nama?
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ اطلاع سامنے آئی کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایران بھر میں سات روزہ سرکاری تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ خبر صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے اور دنیا بھر میں سیاسی، سفارتی اور مذہبی حلقوں میں گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ایرانی سیاست، مذہبی قیادت اور انقلابی نظریے کی علامت رہی۔ وہ 1989 میں بانیٔ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مقرر ہوئے اور تب سے لے کر اب تک ریاستی پالیسیوں، دفاعی حکمتِ عملی اور خارجہ امور میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کی پالیسی اپنائی۔
ان کی شہادت کی خبر نے ایران کے عوام کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مساجد اور امام بارگاہوں میں دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے اور سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ ایران کی تاریخ میں شاید ہی کوئی موقع ایسا آیا ہو جب قومی سطح پر اتنی طویل مدت کا سوگ منایا گیا ہو۔ سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ اس بات کا اظہار ہے کہ ایرانی قوم اپنے رہبر کو کس قدر اہمیت دیتی تھی۔
یہ محض ایک سیاسی رہنما کی........
